کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی نے کسی چور کو پکڑا اور اس کے بارے میں اس سے بات کی گئی تو اس نے طلاق کی قسم کھالی، پھر وہ اس پر غالب آگیا اور اس سے بھاگ گیا تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20208
٢٠٢٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا مروان بن معاوية عن واقد مولى بني حنظلة قال: سئل عطاء بن (أبي) (١) رباح عن رجل أخذ (لصا) (٢) فاجتمع عليه الناس فطلبوا إليه أن يتركه، فقال: إن تركته (فامرأته) (٣) طالق ثلاثًا، فغلبه على نفسه (فانفلت) (٤) منه قال: فقال عطاء: ليس عليه شيء (٥) إنما (غلبه) (٦) على نفسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے کوئی چور پکڑا، پھر لوگ اس کے پاس جمع ہوگئے اور لوگوں نے اس سے مطالبہ کیا کہ اس چور کو چھوڑ دو ۔ اس نے کہا کہ اگر وہ اس کو چھوڑے تو اس کی بیوی کو تین طلاق ۔ پھر چور اس پر غالب آگیا اور اس سے بھاگ گیا تو حضرت عطاء نے فرمایا کہ اس پر کچھ لازم نہیں وہ اس پر غالب آگیا تھا۔