کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی کی زیادہ بیویاں ہوں، وہ ایک کو طلاق دے اور فوت ہوجائے لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کس کو طلاق دی ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20181
٢٠١٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن أبي (بشر) (١) عن عمرو بن هرم عن جابر بن زيد عن ابن عباس في رجل (كن) (٢) له نسوة فطلق (إحداهن) (٣) ثم مات لم يعلم (أيتهن) (٤) طلق؟ قال: فقال ابن عباس: ينالهن من الطلاق ما ينالهن من الميراث (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی کی زیادہ بیویاں ہوں، وہ ایک کو طلاق دے اور فوت ہوجائے لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کس کو طلاق دی ہے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان سب کو طلاق کا اتنا حصہ ملے گا جتنا میراث میں سے ملے گا۔
حدیث نمبر: 20182
٢٠١٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن إسماعيل بن (سالم) (١) عن الشعبي في رجل كن له أربع نسوة، فطلق إحداهن، (ثم تزوج أخرى) (٢) ثم مات ولم يدر أيتهن التي طلق، قال: فقال الشعبي: (للأربع الأول) (٣) ثلاثة أرباع الميراث وللخامسة الربع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی چار بیویاں تھیں، اس نے ان میں سے ایک کو طلاق دے کر ایک اور عورت سے شادی کرلی، پھر وہ انتقال کرگیا اور یہ معلوم نہ ہوا کہ اس نے کس کو طلاق دی تھی۔ اس صورت میں میراث کے تین ربع پہلی چار بیویوں کو ملیں گے اور پانچویں کو ایک ربع ملے گا۔
حدیث نمبر: 20183
٢٠١٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن أبي معشر عن ⦗٤٤٣⦘ إبراهيم في رجل كن له أربع نسوة، فطلق إحداهن (١) لا يدرى أيتهن طلق؟ ثم تزوج خامسة ثم مات، قال: يكمل لهذه التي (تزوج) (٢) (ربع) (٣) الميراث، وما بقي بين هؤلاء الأربع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی چار بیویاں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے اور یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کس کو طلاق دی ہے اور پھر وہ پانچویں سے شادی کرلے تو جس سے شادی کی ہے اسے میراث میں سے ربع ملے گا اور باقی تین ربع باقی عورتوں کو مل جائیں گے۔
حدیث نمبر: 20184
٢٠١٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبد الأعلى) (١) (عن) (٢) برد عن مكحول في رجل كن له أربع نسوة فطلق إحداهن ثم تزوج خامسة ثم مات، و (لم) (٣) يعلم أيتهن طلق؟ قال: ربع الثمن التي تزوج أخيرًا وثلاثة أرباع بين هؤلاء الأربع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو چار بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کو طلاق دے کر پانچویں سے شادی کرلے اور پھر اس کا انتقال ہوجائے اور معلوم نہ ہو کہ کس کو طلاق دی ہے ، اس صورت میں ثمن کاربع اس عورت کو ملے گا جس سے سب سے آخر میں شادی کی ہے اور تین ربع باقی چار عورتوں کو مل جائیں گے۔
حدیث نمبر: 20185
٢٠١٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن سليمان عن أبي عثمان قال: سئل عطاء عن (ذلك) (١) فقال: ربع الربع أو ربع الثمن (للتي) (٢) تزوجها (آخر) (٣)، ويقسم ما بقي بينهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ربع کا ربع یا ثمن کا ربع اس عورت کو ملے گا جس سے سب سے آخر میں شادی کی اور باقی دوسری عورتوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 20186
٢٠١٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب (بن) (١) (عطاء) (٢) عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن قالا: يقرع بينهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی۔