کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی مرد یا عورت اپنے بیٹے سے کہیں کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20177
٢٠١٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن ابن أبي ذئب قال: نا الحارث بن عبد الرحمن عن حمزة بن عبد اللَّه بن عمر قال: كانت (تحت) (١) ابن ⦗٤٤٠⦘ عمر (امرأة) (٢) وكان يعجب بها (وكان عمر يكرهها) (٣) فقال (له) (٤): طلقها، فأبى (فذكرها) (٥) عمر لرسول اللَّه ﷺ فقال النبي ﷺ: "أطع أباك وطلقها (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمزہ بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک بیوی تھیں جن سے وہ بہت محبت کرتے تھے، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ عورت پسند نہ تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس کو طلاق دے دو ۔ انہوں نے طلاق دینے سے انکار کردیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اپنے والد کی اطاعت کرو اور اسے طلاق دے دے دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20177
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ حمزة تابعي، أخرجه أحصد (٤٧١١)، وأبو داود (٥١٣٨)، والترمذي (١١٨٩)، وابن ماجه (٢٠٨٨)، وابن حبان (٤٢٧)، والطحاوي في شرح المشكل (١٣٨٦)، والطبراني (١٣٢٥٠)، والحاكم ٢/ ١٩٧، والبيهقي ٧/ ٣٢٢، والبغوي (٢٣٤٨)، وعبد بن حميد (٨٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20177، ترقيم محمد عوامة 19397)
حدیث نمبر: 20178
٢٠١٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن (الركين) (١) عن أبي طلحة الأسدي قال: كنت جالسًا عند ابن عباس فأتاه أعرابيان (فاكتنفاه) (٢) فقال: أحدهما: إني منت أبغي إبلًا لي، فنزلت بقوم فأعجبتني فتاة لهم، فتزوجتها فحلف أبواي أن لا يضماها أبدا، وحلف الفتى فقال: عليه (ألف محرر) (٣) وألف هدية وألف بدنة إن طلقها، فقال ابن عباس: ما أنا بالذي آمرك أن تطلق امرأتك، ولا أن (تعق) (٤) والديك قال: فما أصنع بهذه المرأة؟ قال: إبرر والديك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوطلحہ اسدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ دو دیہاتی اپنا جھگڑا لے کر آئے۔ ایک نے کہا کہ میں اپنا اونٹ تلاش کرتا ہوا ایک قوم میں جا پہنچا، ان کی ایک لڑکی مجھے بہت پسند آئی میں نے اس سے شادی کرلی۔ میرے والدین نے قسم کھالی ہے کہ وہ اس عورت کو بہو کے طو رپر کبھی قبول نہ کریں گے۔ لڑکے نے قسم کھالی کہ اگر وہ اس کو طلاق دے تو اس پر ایک ہزار غلام آزاد کرنا، ایک ہزار ہدیے دینا اور ایک ہزار اونٹ صدقہ کرنا لازم ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نہ تو تمہیں طلاق دینے کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی والدین کی نافرمانی کا۔ اس نے کہا کہ پھر میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا کہ والدین سے حسن سلوک کا معاملہ کرتے رہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20178
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو طلحة الأسدي صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20178، ترقيم محمد عوامة 19398)
حدیث نمبر: 20179
٢٠١٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا (١) محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال: كان من الحي فتى في بيت شلم (تزل) (٢) به أمه حتى (زوجته) (٣) ابنة عم له فعلق منها معلقًا، ثم قالت له أمه: طلقها، فقال: لا أستطيع، علقت مني (ما لا أستطيع) (٤) أن أطلقها معه، قالت: فطعامك (وشرابك) (٥) علي حرام حتى تطلقها فرحل إلى أبي الدرداء إلى الشام فذكر له شأنه فقال: (ما) (٦) أنا بالذي آمرك أن تطلق امرأتك، ولا أنا بالذي آمرك أن تعق والديك (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قبیلے میں ایک نوجوان تھا جس کی والدہ نے اصرار کرکے اس کی شادی اس کی چچا زاد بہن سے کرادی۔ پھر وہ لڑکا بھی اس سے محبت کرنے لگا۔ پھر اس کی والدہ نے اسے حکم دیا کہ اس لڑکی کو طلاق دے دے۔ اس نوجوان نے کہا کہ اب میں اسے چاہنے لگا ہوں اور اب اسے طلاق دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس کی ماں نے کہا کہ تیرا کھانا اور تیرا پانی مجھ پر حرام ہے جب تک تو اسے طلاق نہ دے دے۔ اس نوجوان نے شام کی طرف سفر کیا اور حضرت ابو دردائ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان سے سارا قصہ ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نہ تو تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اپنی والدہ کی نافرمانی کا کہتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20179
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20179، ترقيم محمد عوامة 19399)
حدیث نمبر: 20180
٢٠١٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا (هشيم) (١) (عن) (٢) حميد عن الحسن قال: (جاءه) (٣) رجل فقال: إن أمه أمرته أن (يتزوج) (٤)، [ثم أمرته بعد ذلك أن يطلق؟ فقال (الحسن) (٥): ليس طلاقه امرأته] (٦)، من بر (أمه) (٧) في شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اس کی ماں نے پہلے اسے حکم دیا کہ شادی کرلے اور پھر اسے حکم دیا کہ اب اپنی بیوی کو طلاق دے۔ حضرت حسن نے فرمایا کہ بیوی کو طلاق دینا ماں کی فرمانبرداری کا حصہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20180
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20180، ترقيم محمد عوامة 19400)