کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر دو آدمی کسی ایسی بات پر بیوی کوطلاق دینے کی قسم کھالیں جس کے بارے میں جانتے نہ ہوں توکیاحکم ہے؟
حدیث نمبر: 20173
٢٠١٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن عطاء عن الشعبي قال: سئل عن (رجل) (١) قال لآخر: إنك (لحسود) (٢)، فقال الآخر: أحسدنا امرأته طالق ثلاثًا، قال: نعم! قال: قد خبتما وخسرتما وبانت منكما (امرأتاكما) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے دوسرے سے کہا تو بہت حاسد ہے۔ دوسرے نے کہا کہ ہم دونوں میں سے جو زیادہ حسد کرتا ہے اس کی بیوی کو طلاق۔ پہلے نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تم دونوں نے نقصان اٹھایا اور دونوں نے غلطی کی، تم دونوں کی بیویوں کو طلاق ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20173
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20173، ترقيم محمد عوامة 19393)
حدیث نمبر: 20174
٢٠١٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن (مغيرة) (١) عن الحارث قال: (أدينهما) (٢) وآمرهما بتقوى اللَّه وأقول: أنتما أعلم بما حلفتما عليه قال: (وباب) (٣) (التديين) (٤) في هذا وشبهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں یہ بات ان کی دینداری پر چھوڑوں گا اور انہیں اللہ سے ڈرنے کا حکم دوں گا۔ اور کہوں گا کہ تم دونوں نے جو قسم کھائی ہے اس کے بارے میں تم زیادہ جانتے ہو۔ وہ فرماتے ہیں کہ دینداری کا باب اس مسئلے میں اس جیسے مسائل میں دیکھا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20174
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20174، ترقيم محمد عوامة 19394)
حدیث نمبر: 20175
٢٠١٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى قال: سئل سعيد عن رجلين قال: أحدهما (لطائر) (١) إن لم يكن غرابًا فامرأته طالق ثلاثًا، وقال الآخر: إن لم يكن ⦗٤٣٩⦘ حمامًا فامرأته طالق ثلاثًا، فحدثنا عن قتادة قال: إذا طار الطائر، ولا (يدري) (٢) ما هو، فلا يقربها هذا ولا يقربها هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ دو آدمیوں نے ایک پرندہ دیکھا، ایک نے کہا کہ اگر یہ کوا نہ ہو تو اس کی بیوی کو تین طلاق اور دوسرے نے کہا کہ اگر یہ کبوتر نہ ہو تو اس کی بیوی کو تین طلاق۔ تو انہوں نے حضرت قتادہ کا قول نقل کیا کہ وہ فرماتے تھے کہ جب پرندہ اڑا اور معلوم نہ تھا کہ وہ کیا ہے تو نہ یہ اپنی بیوی کے قریب جائے اور نہ یہ اپنی بیوی کے قریب جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20175
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20175، ترقيم محمد عوامة 19395)
حدیث نمبر: 20176
٢٠١٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن عمر بن (بشير) (١) عن الشعبي في (رجلين) (٢) مر عليهما (طير) (٣) فقال: أحدهما امرأته طالق إن لم يكن (طائرا) (٤)، وقال الآخر: امرأته طالق إن لم يكن غرابًا، (وطار الطائر) (٥) قال: يعتزلان نساءهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ دو آدمیوں کے پاس سے ایک پرندہ گزرا، ایک نے کہا کہ اگر یہ پرندہ نہ تو اس کی بیوی کو طلاق ہے اور دوسرے نے کہا کہ اگر یہ کوا نہ ہو تو اس کی بیوی کو طلاق ہے اور وہ پرندہ اڑ گیا۔ حضرت شعبی نے فرمایا کہ وہ دونوں اپنی بیویوں سے علیحدہ ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20176
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20176، ترقيم محمد عوامة 19396)