کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الموت کی حالت میں طلاق دے تو اگر عورت اس کی وفات کے وقت عدت میں ہوتو وارث ہوگی
حدیث نمبر: 20155
٢٠١٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن إبراهيم عن شريح قال: أتاني عروة (البارقي) (١) من عند عمر، في الرجل يطلق امرأته ثلاثًا في (مرضه) (٢): إنها ترثه ما دامت في العدة ولا يرثها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے میرے پاس عروہ بارقی آئے اور انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الموت کی حالت میں تین طلاقیں دے دے تو اگر عورت اس کی وفات کے وقت عدت میں ہو تو وارث ہوگی۔ جبکہ مرد عورت کا وارث نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 20156
٢٠١٥٦ - حدثنا أبو بكر (نا) (١) جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: ترثه ولا يرثها ما دامت في العدة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک عورت عدت میں ہے وہ تو خاوند کی وار ث ہوگی لیکن وہ اس کا وارث نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 20157
٢٠١٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه أن (الحسن) (١) بن علي طلق امرأته وهو مريض فمات، فورثته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر رحمہ اللہ کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مرض الوفات میں طلاق دی اور پھر وہ ان کی وارث ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 20158
٢٠١٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن داود وأشعث عن الشعبي (عن شريح) (١) قال: إذا طلق ثلاثًا في مرضه (ورثته) (٢) ما دامت في العدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے اپنی بیوی کو مرض الموت میں طلاق دی تو اگر آدمی کے انتقال کے وقت عورت عدت میں تھی تو وہ وارث ہوگی۔
حدیث نمبر: 20159
٢٠١٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن أشعث عن الشعبي أن أم (البنين) (١) بنت (عيينة) (٢) بن (حصن) (٣) كانت تحت عثمان بن عفان، فلما (حُصِر) (٤) طلقها، وقد كان أرسل إليها ليشتري منها ثمنها (فأبت) (٥) فلما (قتل) (٦) أتت عليًا فذكرت ذلك له فقال: تركها حتى إذا أشرف على الموت طلقها، فورّثها (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام بنین بنت عیینہ بن حصن ، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کاشانۂ خلافت میں محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے ام بنین کو طلاق دے دی۔ وہ ان کی طرف پیغام بھیجا کرتے تھے کہ ان سے ان کا ثمن خرید لیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ام بنین نے اس بات کا تذکرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا پھر جب موت کے قریب ہوئے تو اسے طلاق دے دی اور اسے وارث بنادیا۔
حدیث نمبر: 20160
٢٠١٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن الشيباني (عن الشعبي) (١) أن هشام (بن هبيرة) (٢) كتب إلى شريح يسأله عن الرجل يطلق امرأته ثلاثًا في مرضه، فكتب إليه شريح: إنه فار من كتاب اللَّه، ترثه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ہشام بن ہبیرہ رحمہ اللہ نے حضرت شریح رحمہ اللہ کو خط لکھا جس میں ان سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الموت میں تین طلاقیں دے دے تو کیا وہ اس کی وارث ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اللہ کی کتاب سے بھاگنا چاہتا ہے، وہ وارث ہوگی۔
حدیث نمبر: 20161
٢٠١٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا (حميد بن) (١) عبد الرحمن عن (حسن) (٢) عن ليث عن طاوس في (رجل) (٣) طلق امرأته ثلاثًا في مرضه قال: ترثه ما دامت في العدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مرض الموت میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اگر اس کی عدت میں آدمی کا انتقال ہوجائے تو وہ وارث ہوگی۔
حدیث نمبر: 20162
٢٠١٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن إسماعيل عن هشام قال: سألت عروة عن الرجل يطلق امرأته البتة، أيرث أحدهما الآخر؟ وهل لها نفقة؟ فقال: لا يرث أحدهما الآخر، ولا نفقة لها، إلا أن (تكون) (١) حبلى فينفق عليها حتى تضع، أو يطلق مضارا في (مرضٍ) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حتمی طلاق دے دے تو کیا وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے ؟ اور کیا عورت کو نفقہ ملے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے اور عورت کو نفقہ بھی نہیں ملے گا، البتہ اگر حاملہ ہو تو نفقہ ملے گا۔ آدمی بچے کی پیدائش تک اس پر خرچ کرے گا ۔ اسی طرح اگر مرض الموت میں عورت کو نقصان پہنچانے کے لئے طلاق دے تب بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 20163
٢٠١٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون قال: أنا سعيد بن أبي عروبة عن هشام (بن عروة) (١) عن أبيه عن عائشة أنها قالت في المطلقة ثلاثًا وهو مريض: ترثه ما دامت في العدة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الموت میں تین طلاقیں دے دے تو اگر عدت میں آدمی کا انتقال ہوجائے تو عورت وارث ہوگی۔
حدیث نمبر: 20164
٢٠١٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن أشعث عن ابن (سيرين) (١) قال: كانوا يقولون: لا (يختلفون) (٢) من فرّ من كتاب اللَّه رد إليه؛ يعني في (الرجل) (٣) يطلق امرأته وهو مريض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم فرمایا کرتے تھے کہ تو اختلاف نہیں کرو گے، جو شخص اللہ کی کتاب سے بھاگے گا اسے اسی کی طرف لوٹایا جائے گا یعنی وہ شخص جو مرض الوفات میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔