کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص مرض الموت میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو کیا وہ اس کے مال میں وراثت کاحصہ پائے گی؟
حدیث نمبر: 20150
٢٠١٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا سفيان بن عيينة عن عمرو عن صالح (أن) (١) عثمان (ورث) (٢) امرأة عبد الرحمن بن عوف حين طلقها في مرضه بعد انقضاء العدة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مرض الموت میں طلاق دی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں عدت گزرنے کے بعد میراث میں حصہ دار بنایا۔
حدیث نمبر: 20151
٢٠١٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن حبيب عن رجل من ⦗٤٣٢⦘ قريش عن أبي بن كعب قال: إذا طلقها وهو مريض (ورثتها) (١) منه، ولو مضى سنة، (ما) (٢) لم يبرأ أو (تموت) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الموت میں طلاق دے تو وہ وارث ہوگی۔ اگرچہ اس کے بعد ایک سال گزر جائے۔ البتہ اگر آدمی پھر سے تندرست ہوگیا یا عورت نے شادی کرلی تو پھر میراث نہیں ملے گی۔
حدیث نمبر: 20152
٢٠١٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن ابن (جريج) (١) عن ابن أبي مليكة قال: سألت ابن الزبير عن رجل طلق امرأته وهو مريض ثم مات، (فقال) (٢): قد ورث عثمان ابنة (أصبغ) (٣) (الكلبية) (٤)، وأما أنا فلا أرى أن ترث مبتوتة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص مرض الموت میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو کیا وہ اس کے مال میں وراثت کا حصہ پائے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے اصبغ کی بیٹی کو میراث میں حصہ دلوایا تھا لیکن میرے خیال میں ایسی عورت وارث نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 20153
٢٠١٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا سهل بن يوسف عن حميد عن بكر (أن) (١) خالد بن عبد اللَّه سأل الحسن عن رجل طلى امرأته ثلاثًا في مرضه، فمات وقد انقضت عدتها، قال: ترث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن عبداللہ رحمہ اللہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص مرض الموت میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو کیا وہ اس کے مال میں وراثت کا حصہ پائے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ وارث ہوگی۔
حدیث نمبر: 20154
٢٠١٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبيد اللَّه) (١) (عن) (٢) عثمان بن الأسود (عن ⦗٤٣٣⦘ عطاء) (٣) قال: (٤) لو مرض سنة (ورثتها) (٥) منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ ایک سال تک بیمار رہا تو عورت وارث ہوگی۔