کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا نفقہ دینے سے عاجز آجائے تو اس کو طلاق پرمجبور کیا جائے گا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 20127
٢٠١٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة (١) عن أبي الزناد قال: سألت سعيد ابن المسيب عن الرجل يعجز عن نفقة امرأته فقال: يفرق بينهما فقلت: سنة؟ ⦗٤٢٧⦘ فقال: سنة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا نفقہ دینے سے عاجز آجائے تو اس کو طلاق پر مجبور کیا جائے گا یا نہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہ سنت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں یہ سنت ہے۔
حدیث نمبر: 20128
٢٠١٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: سألته (عن) (١) الرجل يعسر عن نفقة امرأته، (فقال) (٢): (لا بد) (٣) من أن ينفق أو يطلق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا نفقہ دینے سے عاجز آجائے تو اس کو طلاق پر مجبور کیا جائے گا یا نہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ یا اسے نفقہ دے ی اطلاق۔
حدیث نمبر: 20129
٢٠١٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري قال: (يستأنى) (١) به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسے مہلت دی جائے گی اور فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ بھی یونہی فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 20130
٢٠١٣٠ - (قال) (١): وبلغني أن (عمر) (٢) بن عبد العزيز قال ذلك.
حدیث نمبر: 20131
٢٠١٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن عمرو عن الحسن قال إذا عجز الرجل (عن) (١) نفقة امرأته لم يفرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کانفقہ دینے سے عاجز آجائے تو دونوں کے درمیان جدائی نہیں کرائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20132
٢٠١٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عمر بن هارون عن ابن (جريج) (١) عن عطاء في الرجل يعجز عن نفقة امرأته، قال: لا يفرق بينهما، (امرأة) (٢) ابتليت فلتصبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کانفقہ دینے سے عاجز آجائے تو دونوں کے درمیان جدائی نہیں کرائی جائے گی۔ اس عورت پر آزمائش آئی ہے یہ صبر کرے۔
حدیث نمبر: 20133
٢٠١٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة قال: سألت حمادًا عن رجل تزوج امرأة (و) (١) لم يكن عنده ما ينفق قال: (يؤجل) (٢) سنة، قلت فإن لم يجد؟ قال: يطلقها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے لیکن اس کے پاس اسے دینے کے لئے کچھ نہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ میں نے کہا کہ اگر پھر بھی کچھ نہ ہوسکے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اسے طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 20134
٢٠١٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن سفيان عن يحيى بن سعيد عن (سعيد) (١) بن المسيب قال: يفرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔