کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور پھراس کوحیض نہ آئے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20105
٢٠١٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن أشعث عن ابن سيرين قال: قال عبد اللَّه: عدة المطلقة بالحيض وإن طالت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق یافتہ عورت کی عدت حیض سے شمار کی جائے گی خواہ وہ طویل ہی کیوں نہ ہوجائے۔ حضرت حفص فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک سال یا زائد کا تذکرہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20105
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20105، ترقيم محمد عوامة 19332)
حدیث نمبر: 20106
٢٠١٠٦ - (قال) (١) حفص: فذكر السنة وأكثر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20106
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20106، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 20107
٢٠١٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن داود عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ حیض کے اعتبار سے عد ت گزارے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20107
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20107، ترقيم محمد عوامة 19333)
حدیث نمبر: 20108
٢٠١٠٨ - وعن عبيدة عن إبراهيم أنهما قالا: تعتد بالحيض.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20108
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20108، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 20109
٢٠١٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: قال عمر: إذا طلقت المرأة (فحاضت) (١) حيضة أو حيضتين ثم (رفعتها) (٢) (حيضتها) (٣) اعتدت للمحيض ثلاثة أشهر، (ثم) (٤) اعتدت للحمل تسعة أشهر ثم حلت للرجال (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک عورت کو طلاق دی جائے، پھر اسے ایک یا دو حیض آئی اور اس کے بعد اس کا حیض بند ہوجائے تو وہ حیض کے لئے تین مہینے شمار کرے گی اور حمل کے لئے نومہینے شمار کرے گی، پھر مردوں کے لئے حلال ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20109
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20109، ترقيم محمد عوامة 19334)
حدیث نمبر: 20110
٢٠١١٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن في المرأة إذا طلقها فحاضت حيضة أو حيضتين تربص سنة، ثم تمكث بعد السنة ثلاثة أشهر ثم تزوج] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی عورت کو طلاق دی گئی، پھر اسے ایک یا دو حیض آئے اور پھر حیض بند ہوگئے تو وہ ایک سال تک انتظار کرے اور ایک سال کے بعد پھر تین مہینے انتظار کرے پھر شادی کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20110
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20110، ترقيم محمد عوامة 19335)
حدیث نمبر: 20111
٢٠١١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو اسامة عن عبد الحميد بن جعفر عن يزيد بن أبي حبيب قال: كتب إليّ الزهري أن رجلًا طلق امرأته وهي ترضع ابنًا له، فمكثت سبعة (أشهر) (١) (أو) (٢) ثمانية أشهر لا تحيض، فقيل له: إن مت ورثتك، فقال: ⦗٤٢٢⦘ احملوني إلى عثمان فحملوه، فأرسل عثمان إلى علي وزيد (فسألهما فقالا) (٣): لا نرى أن ترثه، فقال: ولم؟ فقالا: لأنها ليست من (اللائي) (٤) يئسن من المحيض، ولا (اللائي) (٥) لم يحضن وإنما يمنعها من (المحيض) (٦) الرضاع، فأخذ (الرجل) (٧) ابنه (منها) (٨) فلما فقدته حاضت حيضة ثم حاضت في الشهر الثاني حيضة أخرى ثم مات قبل أن تحيض الثالثة فورثته (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زہری نے میری طرف خط لکھا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، جبکہ وہ اس کے ایک بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ پھر وہ عورت سات مہینے یا آٹھ مہینے رکی رہی اسے حیض نہ آیا۔ آدمی سے کسی نے کہا کہ اگر تو مرگیا تو وہ تیری وارث ہوگی۔ اس نے کہا کہ مجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ، اسے حضرت عثمان کے پاس لے جایا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ اور یہ انہی سے اس بارے میں سوال کرے۔ انہوں دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہماری رائے تو یہ ہے کہ وہ وارث ہوگی۔ اس نے کہا کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس لئے کہ یہ ان عورتوں میں سے نہیں جو حیض سے مایوس ہیں اور ان میں سے بھی نہیں جنہیں حیض نہیں آتا۔ اس کو حیض نہ آنے کی وجہ بچے کو دودھ پلانا ہے۔ اس کے بعد آدمی نے اپنا بچہ اس سے لے لیا، بچے کادودھ چھڑوا دینے کے بعد اس عورت کو ایک حیض آیا، پھر دوسرے مہینے اسے دوسرا حیض آیا، پھر عورت کو تیسرا حیض آنے سے پہلے آدمی کا انتقال ہوگیا تو وہ عورت اس کی وارث بن گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20111
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20111، ترقيم محمد عوامة 19336)
حدیث نمبر: 20112
٢٠١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب عن نافع عن سليمان بن يسار أن الأحوص -رجلا من (أهل الشام) (١) - طلق امرأته تطليقة أو تطليقتين فمات وهي في الحيضة الثالثة من الدم، فرفع ذلك إلى معاوية فسأل عنها فضالة ابن عبيد، ومن هناك من أصحاب النبي ﵇، فلم يوجد عندهم فيها (علم) (٢)، فبعث (بها) (٣) راكبا إلى زيد بن ثابت فقال: لا ترثه، وإن ماتت لم يرثها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شام کے ایک آدمی جن کا احوص تھا انہوں نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں، ابھی وہ عورت تیسرے حیض میں تھی کہ آدمی کا انتقال ہوگیا۔ یہ مقدمہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا تو انہوں نے اس بارے میں حضرت فضالہ بن عبید سے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م سے سوال کیا۔ لیکن کسی نے اس کا جواب نہ دیا۔ لہٰذا ایک سوار کو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس اس بارے میں سوال کرنے کے لئے بھیجا گیا انہوں نے فرمایا کہ وہ وارث نہیں ہوگی اور اگر عورت مرجائے تو خاوند بھی وارث نہیں ہوگا اور انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20112
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20112، ترقيم محمد عوامة 19337)
حدیث نمبر: 20113
٢٠١١٣ - قال: (و) (١) كان (ابن) (٢) عمر يرى ذلك (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20113
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20113، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 20114
٢٠١١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية (عن الأعمش) (١) عن إبراهيم عن علقمة أنه طلق امرأته تطليقة أو تطليقتين، فحاضت حيضة أو حيضتين في (ستة) (٢) عشر شهرًا (أو سبعة عشر شهرًا) (٣)، ثم لم تحض الثالثة حتى ماتت، (فأتى) (٤) عبد اللَّه فذكر ذلك له فقال عبد اللَّه: حبس اللَّه عليك ميراثها، (وورّثه) (٥) منها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں پھر خاتون کو سولہ یاسترہ مہینوں میں ایک یا دو حیض آئے، انہیں تیسرا حیض نہ آیا کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ حضرت علقمہ حضرت عبد اللہ کے پاس آئے اور ان سے اس بارے میں سوال کیا تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ نے اس کی میراث تمہارے لئے روک کر رکھی۔ پھر حضرت عبد اللہ نے انہیں وارث قرار دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20114
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20114، ترقيم محمد عوامة 19338)
حدیث نمبر: 20115
٢٠١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن محمد ابن يحيى بن حبان (أن جده حبان) (١) بن (منقذ) (٢) كانت عنده امرأتان: امرأة من بني هاشم، وامرأة من الأنصار، وأنه طلق الأنصارية وهي ترضع، وكانت إذا ارضعت مكثت سنة لا تحيض، فمات حبان عند رأس السنة، فورثها عثمان، وقال للهاشمية: هذا رأي ابن عمك: علي بن أبي طالب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت حبان بن منقذ کی دو بیویاں تھیں، ایک بنو ہاشم سے اور دوسری انصار سے۔ انہوں نے اپنی انصاریہ بیوی کو طلاق دے دی جبکہ وہ بچے کو دودھ پلاتی تھیں۔ جب وہ بچے کو دودھ پلاتی تھیں تو انہیں ایک سال تک حیض نہیں آتا تھا۔ حضرت حبان وہ سال پورا ہونے سے پہلے انتقال کرگئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی بیوی کو وارث قرار دیا۔ اور ہاشمیہ بیوی سے فرمایا کہ یہی رائے تمہارے چچا زاد حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بھی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20115
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20115، ترقيم محمد عوامة 19339)
حدیث نمبر: 20116
٢٠١١٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى (عن معمر) (١) عن الزهري في التي لا تحيض إلا في (الأشهر) (٢) قال: (تعتد) (٣) بالحيض وإن تطاول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس عورت کو کئی مہینوں میں ایک مرتبہ حیض آتا ہو وہ بھی عدت حیض کے اعتبار سے گزارے گی خواہ حیض طویل ہی کیوں نہ ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20116
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20116، ترقيم محمد عوامة 19340)