کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ام ولد حاملہ ہو اور اس کا آقا انتقال کرجائے تو اس پر کہاں سے خرچ کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 20102
٢٠١٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل ابن علية عن يونس (أن) (١) ابن سيرين (٢) كان يرى لكل حامل نفقة قال: (فولي) (٣) أم ولد يعلى بن خالد فكان يرى لها النفقة، فكره أن ينفق (عليها) (٤) دون القاضي، فأرسل إلى عبد الملك بن يعلى فمنعها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ ہر حاملہ کے لئے نفقہ کے قائل تھے۔ یعلی رضی اللہ عنہ بن خالد کی ام ولد کے لئے انہوں نے نفقہ کی رائے دی تھی لیکن وہ اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ ام ولد پر قاضی کے بغیر خرچ کیا جائے۔ انہوں نے عبد الملک بن یعلی رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے نفقہ سے منع کردیا۔ حسن فرمایا کرتے تھے کہ اس پر خرچ کیا جائے گا۔ اگر زندہ بچے کو جنم دے تو اس کا نفقہ بچے کے حصے میں سے ہوگا اور اگر مردہ بچے کو جنم دے تو اسے لغو قرار دے دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 20103
٢٠١٠٣ - وقال: كان الحسن يقول: ينفق عليها، فإن ولدته حيا فنفقتها من نصيب ولدها، وإن ولدته ميتًا ألغي ذلك.
حدیث نمبر: 20104
٢٠١٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن برد عن مكحول قال: إذا كانت أم ولد فتوفي عنها سيدها؛ فنفقتها من نصيب الذي في بطنها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ام ولد کا آقا فوت ہوجائے تو اس کا نفقہ اس کے حصے میں سے ہوگا جو اس کے پیٹ میں ہے۔