کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک اگر آدمی نے عورت کو طلاقِ رجعی دی ہو تو وہ بناؤ سنگھار اور زیب وزینت اختیار کرسکتی ہے
حدیث نمبر: 20056
٢٠٠٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل يطلق امرأته طلاقًا يملك الرجعة، قال: تكتحل وتلبس (المعصفر) (١) وتشوف له ولا تضع ثيابها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق رجعی دی ہو تو وہ سرمہ لگا سکتی ہے، رنگ والے کپڑے پہن سکتی ہے، بناؤسنگھار کرسکتی ہے۔ لیکن اپنے کپڑے نہیں اتارے گی۔
حدیث نمبر: 20057
٢٠٠٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: إذا (طلق) (١) (الرجل) (٢) (امرأته) (٣) (تطليقة) (٤) يملك الرجعة: تزينت له وتعرضت له واستترت.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق رجعی دی ہو تو وہ اس کے لئے زیب وزینت اختیار کرے گی، اس کے سامنے آئے گی اور جسم کو ڈھانپ کر رکھے گی۔
حدیث نمبر: 20058
٢٠٠٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: إذا طلق الرجل امرأته تطليقة أو تطليقتين فإنها تزين و (تشوف) (١) له (من) (٢) غير أن تضع خمارها عنده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہوں تو وہ اس کے لئے زیب وزینت اور بناؤ سنگھار اختیار کرسکتی ہے لیکن اس کے سامنے اپنی چادر نہیں اتارے گی۔
حدیث نمبر: 20059
٢٠٠٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد قال: إذا طلق الرجل امرأته تطليقة فإنه يستأذن عليها، وتلبس ما شاءت من الثياب و (الحلي) (١)؛ فإن لم يكن لهما إلا بيت واحد (فليجعلا) (٢) بينهما سترًا ويسلم إذا دخل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تو وہ اس کے پاس آنے سے پہلے اجازت طلب کرے گا۔ البتہ عورت جیسے کپڑے اور زیورات چاہے استعمال کرسکتی ہے۔ اگر ان دونوں کے پاس ایک ہی کمرہ ہو تو درمیان میں پردہ ڈال لیں اور آدمی آنے سے پہلے سلام کرے۔
حدیث نمبر: 20060
٢٠٠٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري وقتادة قالا: في الرجل يطلق امرأته (تطليقة) (١) أو تطليقتين قالا: تشوف له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں تو عورت اس کے لئے بناؤسنگھار کرسکتی ہے۔
حدیث نمبر: 20061
٢٠٠٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الصمد بن عبد الوارث عن هشام عن قتادة قال: قال علي: (لتشوف) (١) له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق رجعی کے بعد عورت اپنے خاوند کے لئے بناؤسنگھار کرسکتی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مرد کے لئے اس کے بال دیکھنا درست نہیں۔
حدیث نمبر: 20062
٢٠٠٦٢ - وقال ابن عباس: لا يحل له أن يرى شعرها (١).
حدیث نمبر: 20063
٢٠٠٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع (عن طلحة) (١) (عن عطاء) (٢) قال: تزين له (٣) (تصنع) (٤) له إذا طلقها تطليقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تو وہ اس کے لئے زیب وزینت اختیار کرسکتی ہے اور بن ٹھن کر رہ سکتی ہے۔