کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک مطلقہ عدت میں اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ بھی کہیں رہ سکتی ہے
حدیث نمبر: 19926
١٩٩٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن هشام بن عروة عن أبيه ⦗٣٧٦⦘ قال: قالت فاطمة بنت قيس: (يا) (١) رسول اللَّه! إني أخاف أن يقتحم علي (قال) (٢) فأمرها أن تحول (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے (طلاق کے بعد) حضور ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے اندیشہ ہے کہ اس گھر میں میرے ساتھ زیادتی کی جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔
حدیث نمبر: 19927
١٩٩٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية (عن يونس) (١) عن الحسن في المطلقة ثلاثًا: تعتد في غير بيتها إن شاءت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں اگر وہ چاہے تو اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ کہیں بھی عدت گزار سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 19928
١٩٩٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن حبيب قال: سألت عطاء فقال: تعتد حيث شاءت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے مطلقہ کی عدت کے مقام کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ جہاں چاہے وہاں عدت گزار سکتی ہے۔ حضرت رضی اللہ عنہ حسن بھی یہی فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 19929
١٩٩٢٩ - وقاله الحسن: أيضًا.
حدیث نمبر: 19930
١٩٩٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن بشر (قال: نا محمد بن عمرو) (١) قال: نا أبو سلمة عن فاطمة بنت قيس (قال) (٢): (كتبت) (٣) ذلك من فيها كتابًا، (قالت) (٤): كنت عند رجل من بني مخزوم فطلقني البتة، فقال لي رسول اللَّه ﷺ: ⦗٣٧٧⦘ " (انتقلي) (٥) إلى (٦) ابن (أمِّ) (٧) مكتوم فإنه رجل قد (ذهب) (٨) بصره، فإن وضعت شيئًا لم ير شيئا" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں بنومخزوم کے ایک آدمی کے نکاح میں تھی۔ انہوں نے مجھے حتمی طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر چلی جاؤ۔ وہ نابینا آدمی ہیں۔ اگر تم ضرورت کے تحت اپنے کپڑے اتارو گی تو بھی وہ کچھ نہ دیکھ سکیں گے۔