کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک عیسائی اور یہودی عورت کی طلاق مسلمان عورت کی طلاق کی طرح ہے اور ان کی عدت بھی مسلمان عورت کی طرح ہے
حدیث نمبر: 19896
١٩٨٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: طلاق اليهودية والنصرانية طلاق المسلمة، و (عدتهما) (١) عدة الحرة المسلمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ عیسائی اور یہودی عورت کی طلاق مسلمان عورت کی طلاق کی طرح ہے اور ان کی عدت بھی آزاد مسلمان عورت کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 19897
١٩٨٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن سعيد ابن المسيب (و) (١) الحسن فيمن تزوج اليهودية (و) (٢) النصرانية على المسلمة قال: يقسم بينهما سواء، (و) (٣) طلاقها طلاق حرة، وعدتها كذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے مسلمان عورت کے ہوتے ہوئے کسی یہودی یاعیسائی عورت سے شادی کی تو ان کے درمیان برابری سے کام لے۔ ان کی طلاق اور عدت بھی آزاد مسلمان عورت کی طرح ہوگی۔
حدیث نمبر: 19898
١٩٨٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن عبيدة عن إبراهيم قال: طلاق اليهودية والنصرانية طلاق الحرة، و (عدتها) (١) عدة الحرة، ويقسم (لها) (٢) كما يقسم للحرة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عیسائی اور یہودی عورت کی طلاق مسلمان عورت کی طلاق کی طرح ہے اور ان کی عدت بھی آزاد مسلمان عورت کی طرح ہے۔ اور ان کے درمیان تقسیم بھی آزاد عورت کی طرح کرے گا۔
حدیث نمبر: 19899
١٩٨٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: عدة النصرانية مثل عدة المسلمة، (وقسمتهما) (١) سواء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نصرانیہ کی عدت مسلمان عورت کی طرح ہے اور ان کے درمیان تقسیم بھی برابر ہوگی۔
حدیث نمبر: 19900
١٩٩٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أسباط بن محمد عن مطرف عن عامر في الرجل يتزوج المسلمة واليهودية (و) (١) النصرانية قال: (يسوّى) (٢) بينهما في القسم من ماله ونفسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ آدمی جو مسلمان، یہودیہ اور عیسائیہ عورت سے شادی کرے تو مال اور جان میں ان کے درمیان برابری کرے گا۔
حدیث نمبر: 19901
١٩٩٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا شبابة عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن الرجل يتزوج النصرانية (فقالا) (١): (قسمتهما) (٢) سواء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عیسائی عورت سے شادی کرے تو (مسلمان عورت کے ہوتے ہوئے ان دونوں میں برابری اور تقسیم کا) کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ دونوں کے درمیان تقسیم میں برابری کرے گا۔