کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر ذمیہ عورت کو طلاق ہوجائے یااس کا خاوند مرجائے اور وہ عدت میں مسلمان ہوجائے تو کتنی عدت گزارے گی؟
حدیث نمبر: 19893
١٩٨٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحمن بن مهدي عن زياد بن عبد الرحمن قال: سألت الشعبي عن امرأة ذمية طلقت فأسلمت في عدتها، قال: إذا أسلمت (١) لزمها ما لزم المسلمات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر ذمیہ عورت کو طلاق ہوجائے یا اس کا خاوند مرجائے اور وہ عدت میں مسلمان ہوجائے تو کتنی عدت گزارے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اس پر مسلمان عورتوں کے احکام لاگو ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19893
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19893، ترقيم محمد عوامة 19141)
حدیث نمبر: 19894
١٩٨٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن أبي حرة قال: سئل الحسن عن نصرانية (و) (١) (نصراني) (٢) فأسلمت (أيفرق) (٣) بينهما؟ قال: نعم، قال: عليها عدة؟ (قال: (نعم!) (٤) عليها عدة) (٥): ثلاث حيض أو ثلاثة أشهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سوال کیا گیا کہ اگر کوئی نصرانی عورت جو کہ ایک نصرانی کے نکاح میں تھی۔ اگر اسلام قبول کرتی ہے تو کیا ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں اس پر عدت لازم ہوگی، تین حیض یاتین مہینے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19894
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19894، ترقيم محمد عوامة 19142)
حدیث نمبر: 19895
١٩٨٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أسباط بن محمد عن عبد الملك قال: سئل عطاء عن المرأة يموت زوجها (وهي نصرانية) (١) ثم تسلم كم تعتد؟ قال: أربعة أشهر وعشرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی عورت کا عیسائی خاوند مرجائے اور عورت اسلام قبول کرلے تو وہ کتنی عدت گزارے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ چار مہینے اور دس دن۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19895
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19895، ترقيم محمد عوامة 19143)