کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کسی شخص کے نکاح میں باندی ہو اور وہ آدمی مرجائے اور اس کی موت کے بعد باندی کو بھی آزاد کردیا جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19871
١٩٨٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن إبراهيم في ⦗٣٦١⦘ امرأة مات عنها زوجها ثم أعتقت قال: تمضي على عدة الأمة، وليس لها إلا عدة الأمة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کا خاوند انتقال کرجائے اور پھر اسے آزاد بھی کردیا جائے تو وہ باندی والی عدت گذارے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19871
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19871، ترقيم محمد عوامة 19122)
حدیث نمبر: 19872
١٩٨٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عمر بن زرعة عن ابن سالم عن الشعبي أنه كان يقول: إذا توفي عنها زوجها وهي مملوكة؛ فأدركها العتق؛ وهي في عدتها (فتتم) (١) أربعة أشهر وعشرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کا خاوند انتقال کرجائے اور پھرا سے آزاد بھی کردیا جائے اور وہ عدت میں ہو تو وہ چار مہینے دس دن پورے کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19872
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19872، ترقيم محمد عوامة 19123)