کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر ایک آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے ایک طلاق دے دے پھر اس باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19865
١٩٨٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن منصور عن إبراهيم في الأمة (تطلق) (١) تطليقتين ثم يدركها عتاقه (قبل) (٢) أن (تنقضي) (٣) (عدتها) (٤) قال: تعتد عدة الأمة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کو دو طلاقیں دی جائیں اور پھر اسے عدت کے پورا ہونے سے پہلے آزادی مل جائے تو باندی والی عدت گزارے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19865
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19865، ترقيم محمد عوامة 19116)
حدیث نمبر: 19866
١٩٨٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا طلقت تطليقة ثم (أدركتها عتاقه) (١) قبل أن تنقضي عدتها؛ اعتدت عدة (الحرة) (٢)، وإذا طلقت تطليقتين ثم (أدركتها عتاقة) (٣) اعتدت عدة الأمة لما بانت منه، والمتوفى عنها (٤) كذلك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کسی باندی کو ایک طلاق دی جائے اور پھر اس کو عدت کے پورا ہونے سے پہلے آزادی مل جائے تو وہ آزاد عورت والی عدت گزارے گی۔ اگر اسے دو طلاقیں دی جائیں اور پھر اسے آزادی مل جائے تو وہ باندی والی عدت گزارے گی۔ یہی حکم اس باندی کا ہے جس کا خاوند مرجائے۔ اور پھر اسے آزادی بھی مل جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19866
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19866، ترقيم محمد عوامة 19117)
حدیث نمبر: 19867
١٩٨٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه قال: إذا طلق الرجل امرأته وهي أمة تطليقة ثم أعتقت في العدة فعدتها عدة (حرة) (١) وإذا ⦗٣٦٠⦘ طلقها تطليقتين، ثم أعتقت قال: (لا) (٢) يتزوجها حتى (تتزوج) (٣) زوجًا غيره وعدتها عدة (أمة) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے اپنی ایسی بیوی کو جو کہ باندی تھی ایک طلاق دے دی، پھر عدت کے دوران اسے آزاد بھی کردیا گیا تو وہ آزاد عورت والی عدت گزارے گی۔ اور جب اس کو دو طلاقیں دیں اور پھر وہ آزاد کردی گئی تو وہ اس وقت تک اس سے شادی نہیں کرسکتا جب تک وہ کسی اور سے شادی نہ کرلے۔ اس کی عدت باندی والی عدت ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19867
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19867، ترقيم محمد عوامة 19118)
حدیث نمبر: 19868
١٩٨٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحمن بن مهدي عن حماد بن زيد عن (علي) (١) بن الحكم عن الضحاك في الأمة إذا طلقت تطليقتين ثم أعتقت في عدتها قال: تعتد حيضتين، وإن طلقت واحدة فأعتقت في عدتها قال: تعتد ثلاث حيض وزوجها أحق بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک باندی کو دو طلاقیں دی گئیں۔ پھر اسے اس کی عدت میں آزاد کردیا گیا تو وہ دو حیض عدت گزارے گی۔ اگر اسے ایک طلاق دی گئی اور اسے اس کی عدت میں آزاد کردیا گیا تو وہ تین حیض عدت گزارے گی اور اس کا خاوند اس کا زیادہ حقدارہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19868
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19868، ترقيم محمد عوامة 19119)
حدیث نمبر: 19869
١٩٨٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب (أنه) (١) قال: عدتها عدة (حرة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی عدت آزاد عورت والی عدت ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19869
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19869، ترقيم محمد عوامة 19120)
حدیث نمبر: 19870
١٩٨٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير قال: نا إسماعيل بن أبي خالد عن عامر قال: إذا طلقت الأمة تطليقتين ثم أعتقت عند ذلك، فعدتها عدة الأمة وإذا طلقت واحدة ثم أعتقت عند ذلك فعدتها عدة الحرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کو دو طلاقیں دی گئیں پھر اسے آزاد کردیا گیا تو اس کی عدت باندی والی عدت ہوگی اور اگر اسے ایک طلاق دینے کے بعد آزاد کیا گیا تو اس کی عدت آزاد عورت والی عدت ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19870
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19870، ترقيم محمد عوامة 19121)