کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی غلام اپنی حاملہ بیوی کو طلاق دے دے تو جن حضرات کے نزدیک اس پر نفقہ لازم ہوگا
حدیث نمبر: 19756
١٩٧٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في الحرة تحت العبد، والأمة تحت الحر: يطلقان وهما حاملان، لهما النفقة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آزاد عورت کسی غلام کے نکاح میں ہو یا باندی کسی آزاد کے نکاح میں ہو اور ان کے حاملہ ہونے کی صورت میں انہیں طلاق ہوجائے تو انہیں نفقہ ملے گا۔
حدیث نمبر: 19757
١٩٧٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن الشيباني عن الشعبي في العبد يطلق امرأته وهي حامل قال: (عليه) (١) النفقة حتى تضع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی غلام اپنی بیوی کو حالت حمل میں طلاق دیدے تو اس پر بچے کی پیدائش تک عورت کا نفقہ لازم ہوگا۔
حدیث نمبر: 19758
١٩٧٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن أشعث عن الحكم قال: إذا طلق العبد امرأته وهي (حرة) (١) أنفق عليها حتى تضع، فإذا وضعت لم ينفق عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے اپنی آزاد بیوی کو طلاق دے دی تو بچے کی پیدائش تک نفقہ اس پر لازم رہے گا، بچہ کی پیدائش کے بعد نفقہ لازم نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 19759
١٩٧٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: الحر إذا كانت تحته الأمة فطلقها فإن عليه النفقة حتى تضع، وليس عليه أجر الرضاع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آزاد کے نکاح میں باندی ہو اور وہ اس کو طلاق دے دے تو بچے کی پیدائش تک اس پر نفقہ لازم ہے، اور اس پر دودھ پلانے کی اجرت لازم نہ ہوگی۔