کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کسی شخص نے یہ قسم کھائی کہ فلاں جگہ اپنی بیوی سے جماع نہیں کرے گا تو جن حضرات کے نزدیک وہ ایلاء کرنے والا نہیں ہے
حدیث نمبر: 19709
١٩٧٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في رجل تزوج امرأة فعاسره أهلها فحلف أن لا يبني بها، قال الزهري: لا إيلاء (إلا) (١) بعد دخول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی پھر اس عورت کے گھر والوں نے آدمی کو پریشان کیا تو اس نے قسم کھالی کہ وہ اپنی بیوی سے جماع نہیں کرے گا تو یہ ایلاء نہیں کیونکہ ایلاء تو دخول کے بعد ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19709
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19709، ترقيم محمد عوامة 18972)
حدیث نمبر: 19710
١٩٧١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو عاصم عن ابن جريج عن عطاء قال: إذا آلى منها قبل أن يدخل بها فليس بإيلاء، قلت: وإن كان على جماعها (قادرًا؟) (١) (قال: وإن كان على جماعها (قادرا)) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے دخول سے پہلے ایلاء کی تو یہ ایلاء نہیں۔ ان سے سوال کیا گیا کہ اگر وہ جماع پر قادر ہوکر جماع نہ کرے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جماع پر قادر ہوکر جماع نہ کرے تب بھی یہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19710
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19710، ترقيم محمد عوامة 18973)
حدیث نمبر: 19711
١٩٧١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن يزيد عن أبي العلاء عن (أبي) (١) هاشم في (رجل) (٢) قال لامرأته: واللَّه لا (أبني) (٣) بامرأتي في هذا البيت ثم تركها حتى مضت أربعة أشهر، قال: هو إيلاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہاشم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کے بارے میں کہا کہ خدا کی قسم میں اس گھر میں اپنی بیوی سے جماع نہیں کروں گا پھر چار مہینے تک اس کے قریب نہ گیا تو یہ ایلاء ہے جبکہ حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ایلاء نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19711
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19711، ترقيم محمد عوامة 18974)
حدیث نمبر: 19712
١٩٧١٢ - وقال: حماد: ليس بإيلاء.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19712
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19712، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 19713
١٩٧١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا (وكيع قال ثنا) (١) إسماعيل ((بن) (٢) إبراهيم) (٣) عن أبيه عن مجاهد أن ابن الزبير تزوج امرأة فاستزادوه في المهر فحلف أن لا يزيدهم ولا يدخل بها حتى (يكونوا) (٤) هم (الذين) (٥) يطلبون ذلك منه قال: فتركها (سنين) (٦) ثم طلبوا إليه فدخل بها فلم يره إيلاء (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے شادی کی، لوگوں نے مہر میں اضافے کا مطالبہ کیا حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے قسم کھالی کہ نہ تو مہر میں اضافہ کریں گے اور نہ ہی عورت سے دخول کریں گے، پھر دو سال تک انہیں چھوڑا رکھا، پھر لوگوں نے ان سے درخواست کی تو انہوں نے اپنی بیگم سے شرعی ملاقات فرمائی اور اسے ایلاء قرار نہ دیا، حضرت وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سفیان رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک ہے اور ہماری بھی یہی رائے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19713
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19713، ترقيم محمد عوامة 18975)
حدیث نمبر: 19714
١٩٧١٤ - قال وكيع: وهو قول سفيان، وكذلك نقول.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19714
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19714، ترقيم محمد عوامة ---)