حدیث نمبر: 19680
١٩٦٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن عبد اللَّه بن عمرو (بن) (١) مرة عن عن [(عمرو) (٢) بن مرة] (٣) عن أبي (عبيدة) (٤) عن عبد اللَّه قال: الإيلاء في الرضى والغضب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایلاء غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 19681
١٩٦٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن سماك (عن) (١) (حريث) (٢) (ابن) (٣) (عميرة) (٤) عن أم عطية قالت: قال جبير لأمرأته: (إن) (٥) ابن أخي مع ابنك، فقالت: ما أستطيع أن أرضع (اثنين) (٦) قال: فحلف أن لا يقربها حتى تفطمه قال: فلما (فطموه) (٧) مر به على المجلس فقال القوم: حسن ما غذوتموه قال: فقال جبير: إني (حلفت) (٨) أن لا (أقربها) (٩) حتى تفطمه، قال: فقال القوم: هذا إيلاء، فقال له علي: إن كنت فعلت ذلك غضبًا فلا تحل لك امرأتك، (وإلا) (١٠) فهي امرأتك (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ حضرت جبیر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرے بھائی کا بیٹا تیرے بیٹے کے ساتھ دودھ پئے گا، انہوں نے کہا کہ میں دو بچوں کو دودھ نہیں پلا سکتی، حضرت جبیر رحمہ اللہ نے قسم کھالی کہ جب تک وہ اس بچے کو دودھ نہیں چھڑا دیتیں اس وقت تک وہ اپنی بیوی کے قریب نہ جائیں گے۔ جب اس بچے کا دودھ چھڑا دیا گیا اور وہ لوگوں کے پاس سے گذرا تو لوگوں نے کہا کہ تم نے اسے اچھی غذا دی ہے، حضرت جبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اس وقت تک اپنی بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا جب تک وہ اس کا دودھ نہیں چھڑا دیتی، لوگوں نے کہا کہ یہ ایلاء ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم نے غصے میں ایسا کیا تھا تو تمہارے لئے تمہاری بیوی حلال نہیں اور اگر غصے میں نہیں کیا تو یہ تمہاری بیوی ہے۔
حدیث نمبر: 19682
١٩٦٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن ليث عن (زبيد) (١) عمن حدثه عن علي قال: إنما الإيلاء في الغضب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایلاء غصے میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 19683
١٩٦٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن القعقاع بن يزيد قال: سألت الحسن عن الإيلاء فقال: إنما الإيلاء ما كان في الغضب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قعقاع بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ سے ایلاء کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ایلاء تو غصے میں ہوتا ہے۔ میں نے حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو اسے نہیں جانتا، پھر انہوں آیت ایلاء تلاوت کی۔
حدیث نمبر: 19684
١٩٦٨٤ - قال: وسألت ابن سيرين فقال: ما أدري ما هذا؟ وتلا آية الإيلاء.
حدیث نمبر: 19685
١٩٦٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة (عن إبراهيم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک اپنی بیوی کے قریب نہیں جائے گا جب تک وہ اپنے بچے کا دودھ نہ چھڑا دے تو اگر وہ چار مہینے تک رکا رہے تو ایلاء داخل ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 19686
١٩٦٨٦ - (و) (١) عن مطرف عن الشعبي في رجل حلف: (ألا) (٢) يقرب امرأته حتى تفطم صبيها، (قالا) (٣): إذا مضت أربعة أشهر فقد دخل الإيلاء.
حدیث نمبر: 19687
١٩٦٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عمر بن هارون عن إسماعيل (بن) (١) عبد الملك عن سعيد بن جبير قال: الإيلاء في الرضى (و) (٢) الغضب سواء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غصے اور خوشی کا ایلاء برابر ہے۔