کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ چار مہینے گذرنے کے بعد حکم ایلاء کرنے والے(مُولِی) پر موقوف ہوگا
حدیث نمبر: 19606
١٩٦٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن الشيباني (عن الشعبي) (١) عن عمرو (بن سلمة) (٢) بن (خَرِب) (٣) أن عليًا كان يوقفه بعد الأربعة حتى (يبين) (٤) رجعة أو طلاق (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سلمہ بن حرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ چار مہینے گذرنے کے بعد ایلاء کے حکم کو مُولِی پر موقوف رکھتے تھے کہ وہ خود بیان کرے کہ رجوع ہے یا طلاق ہے۔
حدیث نمبر: 19607
١٩٦٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن الشيباني عن (بكير) (١) بن الأخنس عن مجاهد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أن عليًا أوقفه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایلاء کے حکم کو مُولِی پر موقوف قرار دیا۔
حدیث نمبر: 19608
١٩٦٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد عن مروان عن ⦗٣٠٤⦘ علي (قال) (١): يوقف عند الأربعة حتى (يبين) (٢) (طلاقًا) (٣) أو رجعة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مروان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ چار مہینے گذرنے کے بعد ایلاء کے حکم کو مُولِی پر موقوف رکھتے تھے کہ وہ خود بیان کرے کہ رجوع ہے یا طلاق ہے۔
حدیث نمبر: 19609
١٩٦٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك عن ليث عن مجاهد (عن مروان) (١) عن [علي (قال) (٢): أما أنا فكنت أوقفه بعد الأربعة (٣)، فأما أن (يفيء) (٤) (وإما أن) (٥) يطلق (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حکم کو مُولِی پر موقوف رکھوں گا کہ وہ چاہے تو رجوع کرلے اور چاہے تو طلاق دے دے، مروان کہتے ہیں کہ اگر میرے پاس یہ معاملہ لایا جائے تو میں بھی یہی کروں گا۔
حدیث نمبر: 19610
١٩٦١٠ - وقال] (١) مروان: لو (٢) وليت لفعلت مثل ما (يفعل) (٣).
حدیث نمبر: 19611
١٩٦١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (عليه) (١) ووكيع عن مسعر عن حبيب ابن أبي ثابت عن طاوس عن عثمان أنه كان يقول (يقول) (٢) أهل المدينة: يوقف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان رضی اللہ عنہاہلِ مدینہ سے فرمایا کرتے تھے کہ حکم مُولِی پر موقوف ہوگا۔
حدیث نمبر: 19612
١٩٦١٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن أيوب عن سليمان بن يسار أن مروان أوقفه بعد ستة أشهر] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مروان نے ایلاء کے حکم کو چھ مہینے بعد مُوْلِی کے فیصلے پر موقوف رکھا۔
حدیث نمبر: 19613
١٩٦١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (عيينة) (١) عن يحيى بن سعيد عن سليمان ابن يسار عن بضعة عشر من أصحاب النبي ﷺ قالوا: يوقف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ سے نقل کرتے ہیں کہ حکم کو مُوْلِی پر موقوف رکھا جائے گا۔
حدیث نمبر: 19614
١٩٦١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن أيوب عن سعيد بن جبير قال: سألت ابن عمر عن الإيلاء فقال: الأمراء يقضون في ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایلاء کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں امراء فیصلہ کریں گے۔
حدیث نمبر: 19615
١٩٦١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ اور حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایلاء میں فیصلہ مُوْلِی پر موقوف ہوگا۔
حدیث نمبر: 19616
١٩٦١٦ - وعن ابن طاوس عن أبيه قالوا: في الإيلاء يوقف.
حدیث نمبر: 19617
١٩٦١٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن داود عن عمر بن عبد العزيز في المولي يوقف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایلاء میں فیصلہ مُوْلِی پر موقوف ہوگا۔
حدیث نمبر: 19618
١٩٦١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن إدريس عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: لا يحل له أن يفعل إلا ما أمره (اللَّه) (١)، إما أن يفيء وإما أن يعزم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے لئے صرف وہی کرنا حلال ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ چاہے تو رجوع کرلے اور چاہے تو طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 19619
١٩٦١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع (عن) (١) حسن بن فرات عن ابن أبي (مليكة) (٢) قال: سمعت عائشة تقول: يوقف المولى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایلاء میں فیصلہ مُوْلِی پر موقوف ہوگا۔
حدیث نمبر: 19620
١٩٦٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة (١) عن الشعبي (٢) قال: إذا آلى الرجل من امرأته وقف قبل أن تمضي (أربعة) (٣) (أشهر) (٤) فيقال له: اتق اللَّه، فإما أن تفيء وإما أن تطلق طلاقا يعرف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ایلاء کرے تو چار مہینے گذرنے سے پہلے اس سے کہا جائے گا کہ اللہ سے ڈرو یا تو رجوع کرلو اور چاہو تو طلاق دے دو ۔
حدیث نمبر: 19621
١٩٦٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن منصور (١) عن إبراهيم بنحوه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 19622
١٩٦٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم قال: يوقف المولي عند إنقضاء الأربعة، فإن فاء فهي امرأته، وإن لم (يفئ) (١) فهي تطليقة (بائنة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چار مہینے گذرنے کے بعد مُوْلِی سے تفتیش کی جائے گی کہ اگر رجوع کرلے تو یہ اسی کی بیوی رہے گی اور اگر رجو ع نہ کرے تو یہ ایک طلاق بائنہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 19623
١٩٦٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن داود عن سعيد بن المسيب قال: إذا مضت أربعة أشهر فإما أن يفيء، وإما أن يطلق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو چاہے تو رجوع کرلے اور چاہے تو طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 19624
١٩٦٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (فطر) (١) عن محمد بن كعب قال: الإيلاء ليس بشيء، يوقف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایلاء کوئی چیز نہیں، فیصلہ مُوْلِی پر موقوف ہوگا۔
حدیث نمبر: 19625
١٩٦٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن حنظلة قال: سمعت القاسم ابن محمد وسئل عن الإيلاء قال: يوقف فيقال للذي يسأله: هل طلقت؟ قال: (لا) (١) ولكن يدعو الإمام فإما أن يفيء وإما أن يفارق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے ایلاء کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا ایلاء کا فیصلہ مُوْلِی پر موقوف ہوگا کہ اس سے سوال کیا جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ امام بلائے گا اور پھر اس کے سامنے چاہے تو رجوع کرلے اور چاہے تو طلاق دے دے۔