کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر اس کو چار مہینے گذر گئے تو جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا ایک طلاق ہے
حدیث نمبر: 19585
١٩٥٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مبارك عن معمر عن (عطاء) (١) الخراساني عن أبي سلمة أن عثمان بن عفان وزيد بن ثابت قالا: في الإيلاء إذا مضت أربعة أشهر فهي تطليقة وهي أملك بنفسها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہایلاء کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق ہے اور اس کے بعد عورت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 19586
١٩٥٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن أيوب عن أبي قلابة أن النعمان بن بشير آلى من امرأته فقال ابن مسعود: إذا مضت أربعة أشهر (فقد بانت منه) (١) بتطليقة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب چار مہینے گذر گئے تو عورت ایک طلاق کے ساتھ بائنہ ہوگئی۔
حدیث نمبر: 19587
١٩٥٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم عن عبد اللَّه قال: إذا آلى فمضت أربعة أشهر فقد بانت منه (بتطليقة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے ایلاء کیا اور چار مہینے گذر گئے تو عورت ایک طلاق کے ساتھ بائنہ ہوگئی۔
حدیث نمبر: 19588
١٩٥٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن الأعمش عن حبيب عن سعيد ابن جبير عن ابن عمر وابن عباس (قالا) (١): (إذا آلى) (٢) فلم يفئ حتى تمضي الأربعة الأشهر فهي تطليقة بائنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب عورت نے مرد کے ساتھ ایلاء کیا اور ایفاء نہ کیا اور چار مہینے گذر گئے تو عورت کو ایک طلاق بائنہ ہوگئی۔
حدیث نمبر: 19589
١٩٥٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن الأعمش عن حبيب قال: (سأل) (١) سعيدًا أمير مكة عن الإيلاء فقال: [كان ابن (٢) عباس يقول إذا مضت أربعة أشهر ملكت أمرها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امیر مکہ نے حضرت سعید رحمہ اللہ سے ایلاء کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو عورت اپنے معاملہ کی مالک ہوجاتی ہے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 19590
١٩٥٩٠ - وكان ابن عمر يقول ذلك (١).
حدیث نمبر: 19591
١٩٥٩١ - ثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن شعبة عن الحكم] (١) عن مقسم عن ابن عباس قال: عزيمة (٢) الطلاق (إنقضاء) (٣) الأربعة الأشهر، والفيء الجماع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طلاق کی عزیمت چار مہینوں کا گذر جانا ہے۔
حدیث نمبر: 19592
١٩٥٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص ويزيد بن هارون عن سعيد عن (قتادة) (١) عن الحسن عن علي قال: إذا مضت أربعة أشهر فهي تطليقة (بائنة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
حدیث نمبر: 19593
١٩٥٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن قبيصة قال: إذا مضت أربعة أشهر فهي تطليقة (بائنة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قبیصہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
حدیث نمبر: 19594
١٩٥٩٤ - [حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن حنفیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
حدیث نمبر: 19595
١٩٥٩٥ - وعن (سالم عن) (١) ابن (الحنفية) (٢) قالا: إذا مضت أربعة أشهر فهي تطليقة (بائنة) (٣)] (٤).
حدیث نمبر: 19596
١٩٥٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن إبراهيم قال: إذا مضت أربعة أشهر فهي تطليقة (بائنة) (١)، وهي أملك بنفسها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے، اور وہ مرد اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حقد ار ہے۔
حدیث نمبر: 19597
١٩٥٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن (مجالد) (١) عن الشعبي عن مسروق قال: إذا مضت أربعة أشهر (٢) في الإيلاء كانت تطليقة بائنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ایلاء کہ چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے، حضرت شریح رحمہ اللہ کو جب حضرت مسروق رحمہ اللہ کے اس قول کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہی درست ہے۔
حدیث نمبر: 19598
١٩٥٩٨ - فأخبرت (شريحًا) (١) يقول مسروق فقال به.
حدیث نمبر: 19599
١٩٥٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن الحسن وابن سيرين قالا: إذا مضت أربعة أشهر فهي تطليقة بائنة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
حدیث نمبر: 19600
١٩٦٠٠ - [حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع في إسماعيل بن أبي خالد عن إبراهيم قال: إذا مضت أربعة أشهر فهي تطليقة (بائنة وهي) (١) أملك بنفسها] (٢).
حدیث نمبر: 19601
١٩٦٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن مالك بن أنس عن الزهري عن سعيد بن المسيب وأبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام قالا: إذا مضت أربعة أشهر في (الإيلاء) (١) فهي [تطليقة وهو أحق برجعتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے، اور وہ مرد عورت سے رجوع کرنے کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 19602
١٩٦٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن سفيان عن إسماعيل بن أمية عن مكحول قال: إذا مضت أربعة أشهر فهي] (١) واحدة، (وهو) (٢) أملك بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے، اور وہ مرد عورت سے رجوع کرنے کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 19603
١٩٦٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن منصور عن (١) إبراهيم عن علقمة (قال) (٢): (آلى) (٣) ابن أنس من امرأته (فلبثت) (٤) ستة أشهر، (فبينما) (٥) هو جالس في المجلس إذ ذكر، فأتى ابن مسعود فقال: أعلمها أنها قد ملكت (أمرها) (٦)، فأتاها (فأخبرها) (٧) فقالت: (فأنا) (٨) أهلُك، وأصدقها رطلًا (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا، وہ عورت چھ مہینے تک ٹھہری رہی، ایک مرتبہ وہ آدمی ایک مجلس میں بیٹھا تھا کہ اسے ایلاء یاد آگیا، وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس عورت کو بتادو کہ وہ اپنے معاملے کی خود مالک بن گئی ہے، وہ آدمی اس کے پاس آیا اور اسے خبر دی، اس عورت نے کہا کہ میں تیری ہی بیوی ہوں اور آدمی نے اس عورت کو ایک رطل مہر دیا۔
حدیث نمبر: 19604
١٩٦٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود عن جرير قال: قرأت في كتاب أبي قلابة عند أيوب: سألت (أبا) (١) سلمة وسالمًا عن الإيلاء (فقالا) (٢): إذا مضت أربعة أشهر فهي تطليقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایوب رحمہ اللہ کے پاس موجود حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ کے خط میں پڑھا ہے کہ میں نے حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ اور حضرت سالم رحمہ اللہ سے ایلاء کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو ایک طلاق بائنہ ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 19605
١٩٦٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود عن جرير بن حازم عن قيس بن (سعد) (١) عن عطاء قال: إذا مضت أربعة أشهر فهي تطليقة بائنة و (يخطبها) (٢) زوجها في عدتها ولا (يخطبها) (٣) غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے، عدت میں اس کا خاوند اس عورت کو پیام نکاح بھجواسکتا ہے کوئی اور نہیں بھجوا سکتا۔