کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک عورت نے اپنے خاوند سے خلع لی، پھر وہ اسی سے شادی کرتا ہے اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے تو عورت کو کتنا مہر ملے گا؟
حدیث نمبر: 19572
١٩٥٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا (معتمر) (١) عن منصور عن إبراهيم في رجل بانت منه امرأته بخلع أو إيلاء، فتزوجها (فطلقها) (٢) قبل أن يدخل بها قال: لها الصداق كاملًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک عورت اپنے خاوند سے خلع یا ایلاء کے ذریعے جدا ہوئی، پھر آدمی نے اسی عورت سے شادی کی اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے دی تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ عورت کو پورا مہر ملے گا۔
حدیث نمبر: 19573
١٩٥٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن إسماعيل (وأشعث عن) (١) الشعبي في الرجل يطلق امرأته تطليقة (بائنة) (٢) ثم يتزوجها في عدتها- ثم يطلقها قبل أن يدخل بها قال: (لها) (٣) الصداق، وعليها عدة (مستقبلة) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دیتا ہے، پھر آدمی نے اسی عورت سے اس کی عدت میں شادی کی اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے دی تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ عورت کو پورا مہر ملے گا اور عورت پر پوری عدت لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 19574
١٩٥٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا بن أبي زائدة عن سفيان عن منصور عن إبراهيم مثله، ((و) (١) قال هو) (٢) أملك (برجعتها) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے یونہی منقول ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ وہ اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 19575
١٩٥٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم (قال) (١): لها الصداق كاملًا وعليها العدة كاملًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسے پورا مہر ملے گا اور عورت پر پوری عدت لازم ہوگی۔