حدیث نمبر: 19438
١٩٤٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن سليمان عن أبيه عن أبي قلابة وابن سيرين قالا: لا يحل الخلع حتى (يوجد رجل) (١) على بطنها؛ لأن اللَّه يقول: ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [النساء: ١٩].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ اور حضرت ابن سیرین d فرماتے ہیں کہ آدمی کے لئے بیوی کو خلع کا کہنا اس وقت تک مناسب نہیں جب تک وہ اس کے پیٹ پر کسی دوسرے مرد کو نہ دیکھ لے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں {إلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ }۔
حدیث نمبر: 19439
١٩٤٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن (إبراهيم) (١) قال: لا يحل له أن يأخذ (فدية) (٢) من امرأته (إلا أن لا) (٣) تطيعه ولا تبر له قسمًا فإن فعلت ذلك ⦗٢٦٧⦘ فكان من قبلها شيء حلت له الفدية، فإن أبي أن يقبل منها الفدية وأبت أن تطيعه بعثا حكمين، حكمًا من أهله وحكمًا من أهلها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرد کے لئے صرف اتنی بات پر بیوی سے خلع کا فدیہ لینا درست نہیں کہ وہ اس کی اطاعت نہ کرے اور اس کی قسم کو پورا نہ کرے، البتہ اگر وہ ایسا کرلے تو اس کے لئے فدیہ حلال ہے، اگر خاوند فدیہ قبول کرنے سے انکار کرے اور عورت اطاعت سے انکار کرے تو دونوں فیصلے کے لئے دو آدمی مقرر کریں ایک عورت کے گھر والوں سے ایک مرد کے گھر والوں سے۔
حدیث نمبر: 19440
١٩٤٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي قال: إذا كرهت المرأة زوجها فليأخذ منها وليدعها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت اپنے خاوند کو ناپسند کرے تو آدمی اس سے فدیہ لے کر اسے چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 19441
١٩٤٤١ - حدثنا أبو بكر قال: نا (وكيع عن) (١) حماد بن سلمة عن مروان الأصفر عن حميد بن عبد الرحمن الحميري قال: (يطيب) (٢) لك الخلع إذا قالت: لا (أغتسل) (٣) لك من (الجنابة) (٤)، ولا أبر لك قسمًا، ولا أطيع لك أمرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن عبد الرحمن حمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمہارے لئے عورت سے خلع کرنا اس وقت اچھا ہے جب وہ کہے کہ میں نہ تو تمہارے لئے غسلِ جنابت کروں گی نہ تو تمہاری قسم پوری کروں گی اور نہ تمہارے حکم کی اطاعت کروں گی۔
حدیث نمبر: 19442
١٩٤٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عبد اللَّه بن (نجي) (١) عن علي قال: يطيب للرجل الخلع إذا قالت: لا (أغتسل) (٢) من (جنابة) (٣) ولا أطيع لك أمرًا ولا أبر لك قسمًا ولا أكرم نفسًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مرد کے لئے عورت سے اس وقت علیحدگی کرنا درست ہے جب عورت کہے کہ میں نہ تو تمہارے لئے غسلِ جنابت کروں گی، نہ تمہاری بات مانوں گی، نہ تمہاری قسم پوری کروں گی اور نہ کسی کا اکرام کروں گی۔
حدیث نمبر: 19443
١٩٤٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن علي بن (بذيمة) (١) عن مقسم قال: إذا (عصتك) (٢) (و) (٣) آذتك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مقسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ تمہیں تکلیف دے یا تمہاری نافرمانی کرے تو تم اس سے قطع تعلقی کرلو۔
حدیث نمبر: 19444
١٩٤٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (يزيد عن) (١) الحسن في قوله: ﴿فَلَا جُنَاحَ﴾ [البقرة: ٢٢٩]، قال: ذلك في الخلع إذا قالت: لا (أغتسل) (٢) لك من (جنابة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ آیتِ خلع کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ اس وقت مناسب ہے جب عورت کہے کہ میں تمہارے لئے غسلِ جنابت نہیں کروں گی۔
حدیث نمبر: 19445
١٩٤٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن مطرف عن خالد (السجستاني) (١) عن الضحاك في قوله (تعالى) (٢): ﴿لِتَذْهَبُوا (بِبَعْضِ) (٣) مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [النساء: ١٩]، قال: إذا فعلت ذلك حل له أن يأخذ منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { لِتَذْہَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَیْتُمُوہُنَّ إلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اگر عورت ایسا کرے تو مرد کے لئے فدیہ لینا درست ہے۔
حدیث نمبر: 19446
١٩٤٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن أبي (غنية) (١) عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يخلع المرأة قال: إذا أتى ذلك من قبلها فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر برے تعلقات کا سبب عورت ہو تو مرد کے لئے خلع کرنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 19447
١٩٤٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن ابن جريج عن عمرو بن دينار قال: قال جابر بن زيد: إذا كان النشوز من قبلها حل له فداؤها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر برے تعلقات کا سبب عورت ہو تو مرد کے لئے فدیہ لینا درست ہے۔
حدیث نمبر: 19448
١٩٤٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن ابن (جريج) (١) عن هشام (أن) (٢) ⦗٢٦٩⦘ عروة كان يقول: لا يحل له الفداء حتى يكون الفساد من قبلها ولم يكن يقول: لا تحل له حتى تقول: لا أبر لك قسمًا ولا أغتسل (لك) (٣) من جنابة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ فدیہ اس وقت تک درست نہیں جب تک فساد عورت کی طرف سے نہ ہو، وہ یہ نہیں فرمایا کرتے تھے کہ فدیہ اس وقت تک درست نہیں جب تک عورت یہ نہ کہے کہ میں تیری قسم کو پورا نہیں کروں گی اور تیرے لئے غسل جنابت نہ کروں گی۔
حدیث نمبر: 19449
١٩٤٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عليه عن ابن جريج قال: كان طاوس يقول: يحل له الفداء (ما) (١) قال اللَّه: ﴿إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ﴾، ولم يكن يقول قول السفهاء: حتى تقول: لا أغتسل لك من جنابة، ولكنه كان يقول: ﴿إِلَّا (أَنْ) (٢) (يَخَافَا) (٣) أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ﴾ [البقرة: ٢٢٩] فيما افترض لكل واحد منهما على صاحبه في العشرة والصحبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ خلع میں فدیہ اس وقت تک درست ہے جب تک دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، صرف اتنی بات پر فدیہ درست نہیں ہوتا کہ عورت کہے کہ میں تیرے لئے غسل جنابت نہ کروں گی، بلکہ اصل بنیاد اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھنا ہے، اللہ کی حدود دونوں پر مقرر کی گئی ہیں جیسے اچھا سلوک اور صحبت۔
حدیث نمبر: 19450
١٩٤٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم عن قول المرأة لزوجها: لا أغتسل لك من جنابة، ولا أبر لك قسمًا، ولا أطيع لك أمرًا، قال: ليس بشيء يمسكها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ سے عورت کے اس جملے کے بارے میں سوال کیا کہ وہ اپنے شوہر سے یہ کہے کہ میں تیرے لئے غسلِ جنابت نہیں کروں گی اور تیری قسم کو بھی پورا نہیں کروں گی اور تیری بات بھی نہیں مانوں گی، انہوں نے فرمایا کہ یہ کوئی اہم بات نہیں اسے اپنے پاس ہی رکھے۔
حدیث نمبر: 19451
١٩٤٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن محمد بن إسحاق قال: (سئل) (١) القاسم بن محمد ﴿إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ﴾ قال: ما افترض عليهما في العشرة والصحبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے قرآن مجید آیت {إلاَّ أَنْ یَخَافَا أَلاَّ یُقِیمَا حُدُودَ اللہِ } کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد حسن سلوک اور صحبت ہیں۔
حدیث نمبر: 19452
١٩٤٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه (عن أيوب) (١) عن كثير مولى ابن ⦗٢٧٠⦘ سمرة (أن) (٢) عمر أتي بامرأة ناشز فقال لزوجها: اخلعها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کثیر مولی ابن سمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسی عورت کا مقدمہ لایا گیا تو جو اپنے شوہر کی نافرمان تھی، آپ نے اس کے شوہر سے فرمایا کہ اس سے خلع کرلو۔
حدیث نمبر: 19453
١٩٤٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن الزهري وعطاء وعمرو بن شعيب (أنهم) (١) قالوا: لا يحل الخلع إلا من (الناشز) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری، عطا اور عمرو بن شعیب s فرماتے ہیں کہ خلع صرف نافرمان بیوی سے کیا جاسکتا ہے۔