کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ طلاق اور غلام کو آزاد کرنے میں مزاح نہیں ہوتا، یہ لازم ہوجاتے ہیں
حدیث نمبر: 19425
١٩٤٢٥ - حدثنا أبو بكر (قال: نا) (١) عبد الأعلى عن يونس عن الحسن عن أبي ⦗٢٦٣⦘ الدرداء قال: ثلاث لا (يلعب) (٢) بهن: النكاح والعتاق والطلاق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو دردائ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مزاح نہیں ہوتا : نکاح، عتاق اور طلاق
حدیث نمبر: 19426
١٩٤٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن حجاج عن سليمان بن سحيم عن (سعيد) (١) بن المسيب عن عمر قال: أربع (جائزة) (٢) (على) (٣) كل حال: العتق والطلاق النكاح والنذر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چار چیزیں ہر حال میں نافذ ہوجاتی ہیں : غلام کی آزادی، طلاق، نکاح اور نذر
حدیث نمبر: 19427
١٩٤٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن أبي (كبران) (١) عن الضحاك قال: سمعته يقول ثلاث لا يلعب بهن: الطلاق والنكاح والنذر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین چیزوں میں مزاح نہیں ہوتا : طلاق، نکاح اور نذر
حدیث نمبر: 19428
١٩٤٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن (عياش) (١) عن عمرو (بن) (٢) مهاجر قال: كتب عبد الملك بن مروان وسليمان و (عمر) (٣) بن عبد العزيز ويزيد بن عبد الملك: (ما) (٤) أقلتم السفهاء (من) (٥) شيء، فلا (تقيلوهم) (٦) الطلاق والعتاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مہاجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان، سلیمان، عمر بن عبد العزیز اور یزید بن عبدالملک s نے خط میں لکھا تھا کہ تم بیوقوفوں کی سب باتوں کو معاف کردو لیکن طلاق اور غلام کی آزادی میں انہیں چھوٹ نہ دو ۔
حدیث نمبر: 19429
١٩٤٢٩ - [حدثنا أبو بكر قال: أخبرنا إسماعيل بن عياش عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: ثلاث لا لعب فيهن: النكاح والعتاق والطلاق] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مزاح نہیں ہوتا : نکاح، طلاق اور آزادی
حدیث نمبر: 19430
١٩٤٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن عمرو عن الحسن (١) قال: كان الرجل في الجاهلية يطلق ثم (يرجع) (٢) يقول: كنت لاعبًا، ويعتق ثم (يرجع) (٣) (و) (٤) يقول: كنت لاعبا، فأنزل اللَّه: ﴿(وَلَا) (٥) تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا﴾ فقال رسول اللَّه ﷺ: "من طلق أو حرر (أو أنكح) (٦) أو نكح فقال: إني كنت لاعبًا فهو جائز" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو دردائ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں آدمی اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد رجوع کرلیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو مزاح کررہا تھا، غلام کو آزاد کرتا تھا اور رجوع کرلیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو مزاح کررہا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا { وَلاَ تَتَّخِذُوا آیَاتِ اللہِ ہُزُوًا } اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے طلاق دی، غلام کو آزاد کرایا، نکاح کرایا یا نکاح کیا اور پھر کہا کہ میں تو مزاح کررہا تھا یہ چیزیں پھر بھی نافذ ہوجائیں گی۔
حدیث نمبر: 19431
١٩٤٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا مروان بن معاوية عن عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز عن سليمان (بن) (١) حبيب المحاربي قال: كتب إلى عمر بن عبد العزيز: ⦗٢٦٥⦘ مهما أقلت السفهاء (من) (٢) (أيمانهم) (٣)، فلا (تقلهم) (٤) العتاق والطلاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے خط میں لکھا کہ بیوقوفوں کی ہر غلطی کو معاف کردو لیکن غلام کی آزادی اور طلاق دینے کو معاف نہ کرو۔
حدیث نمبر: 19432
١٩٤٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى عن سعيد قال: ثلاث ليس فيهن لعب: العتاق والطلاق والنكاح] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مزاح نہیں ہوتا : عتاق، طلاق اور نکاح