کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگرمجوسی میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19420
١٩٤٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن الحسن وعكرمة و (كتاب) (١) عمر بن عبد العزيز أنهم قالوا: إذا (سبق) (٢) أحدهما صاحبه بالإِسلام فلا سبيل له عليها إلا (بخطبة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن، حضرت عکرمہ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز s فرماتے ہیں کہ اگر مجوسی میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلے تو مرد کو بغیر نئے سرے سے پیغام نکاح کے عورت پر کوئی حق نہیں رہا۔
حدیث نمبر: 19421
١٩٤٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس عن الحسن في المجوسيين ⦗٢٦٢⦘ إذا أسلما فهما على نكاحهما (فإن) (١) أسلم أحدهما قبل صاحبه انقطع ما بينهما من النكاح.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مجوسی میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلے تو ان کا نکاح ختم ہوگیا۔
حدیث نمبر: 19422
١٩٤٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو بكر بن عياش (عن) (١) هشام وعن الحسن مثله إلا أنه قال: بانت منه.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 19423
١٩٤٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن عبد الملك عن عطاء في الرجل (والمرأة) (١) يكونان مشركين فيسلمان؟ قال: (يثبت) (٢) نكاحهما فإن أسلم أحدهما قبل الآخر انقطع ما بينهما؟ يعني (بذلك) (٣) (المجوس) (٤) والمشركين غير أهل الكتاب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشرک مردو عورت اگر اکٹھے اسلام قبول کرلیں تو ان کا نکاح باقی رہے گا اور اگر ایک اسلام قبول کرلے تو ان کا نکاح ختم ہوجائے گا، یہ حکم مجوسیوں اور مشرکوں کا ہے اہل کتاب کا نہیں۔
حدیث نمبر: 19424
١٩٤٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن منصور عن الحكم في المجوسيين إذا أسلم أحدهما قبل صاحبه فرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مجوسی میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کرلے تو ان کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔