کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر توحاملہ ہوئی تو تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19417
١٩٤١٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة قال: يقع عليها عند كل طهر مرة ثم يمسك حتى تطهر، فإذا استبان حملها بانت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا جب تو حاملہ ہوئی تو تجھے طلاق ہے تو آدمی کو چاہئے کہ ہر طہر میں اس سے جماع کرنے کے بعد دوبارہ جماع نہ کرے یہاں تک کہ وہ دوبارہ حیض آنے کے بعد پاک ہوجائے، جب اس کا حمل ظاہر ہوجائے تو وہ بائنہ ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 19418
١٩٤١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا معاذ بن معاذ عن أشعث عن الحسن أنه قال في رجل قال لامرأته: إذا (حملت) (١) فأنت طالق، قال: يغشاها (إذا) (٢) (تطهرت) (٣) من الحيض، ثم (يمسك) (٤) عنها إلى مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب تو حاملہ ہوئی تجھے طلاق ہے، تو وہ عورت کے حیض سے پاک ہونے کے بعد اس سے جماع کرے اور پھر رک جائے۔ حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے حمل کے ظاہر ہونے تک اس سے جماع کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 19419
١٩٤١٩ - وقال ابن سيرين: يغشاها حتى تحمل.