کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرا ت فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاقِ جدید کا حق ہوگا
حدیث نمبر: 19407
١٩٤٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع (نا) (١) إسماعيل عن الشعبي عن ابن عمر قال: هي عنده على طلاق مستقبل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاق جدید کا حق ہوگا۔
حدیث نمبر: 19408
١٩٤٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة وسفيان عن حماد عن سعيد بن جبير عن ابن عباس وابن عمر قالا: هي عنده على طلاق جديد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں طلاق جدید کا حق ہوگا۔
حدیث نمبر: 19409
١٩٤٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم قال: هي عنده على ثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نئے عقد کی صورت میں عورت تین طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی۔
حدیث نمبر: 19410
١٩٤١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (الأعمش) (١) عن إبراهيم قال: كان أصحاب عبد اللَّه يقولون: يهدم الثلاث ولا (يهدم) (٢) الواحدة (والثنتين) (٣)، يعني ⦗٢٥٩⦘ (طلاقًا) (٤) (واحدًا) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد فرمایا کرتے تھے کہ تین طلاقیں نئی طلاق کا حق دلوا سکتی ہیں تو ایک اور دو طلاقیں کیوں نہیں دلوا سکتیں ؟
حدیث نمبر: 19411
١٩٤١١ - حدثنا أبو بكر (قال: نا) (١) (أبو) (٢) معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان أصحاب عبد اللَّه يقولون: يهدم الثلاث، ولا يهدم الواحدة (والثنتين) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد فرمایا کرتے تھے کہ تین طلاقیں نئی طلاق کا حق دلوا سکتی ہیں تو ایک اور دو طلاقیں کیوں نہیں دلوا سکتیں ؟
حدیث نمبر: 19412
١٩٤١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن حجاج عن طلحة عن إبراهيم أن أصحاب عبد اللَّه (كانوا) (١) يقولون: يهدم الواحدة (والثنتين) (٢) (كما) (٣) يهدم (الثلاث) (٤) إلا (عبيدة) (٥) فإنه قال: هي (كما) (٦) بقي.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد فرمایا کرتے تھے جبکہ حضرت عبیدہ فرماتے تھے کہ مرد کے پاس صرف باقی ماندہ طلاقوں کا حق ہوگا۔ ایک اور دو طلاقیں نئی طلاق کا حق دلوا سکتی ہیں جس طرح تین طلاقیں نئی طلاق کا حق دلواتی ہیں۔
حدیث نمبر: 19413
١٩٤١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (عليه) (١) عن داود عن الشعبي عن شريح قال: على طلاق جديد، وعلى نكاح جديد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ نئی طلاق اور نئے نکاح کے ساتھ واپس آئے گی۔
حدیث نمبر: 19414
١٩٤١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا كثير بن هشام عن جعفر عن ميمون قال: هي عنده على طلاق جديد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ نئی طلاق کے ساتھ واپس آئے گی۔
حدیث نمبر: 19415
١٩٤١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن ابن عون عن (رجاء) (١) عن قبيصة (قال) (٢): قلت رجل طلق امرأته (تطليقة) (٣) فبانت منه فحلت، فتزوجت زوجًا فدخل بها ثم مات عنها أو طلقها، فرجعت إلى (زوجها) (٤) الأول: على كم هي عنده؟ قال: (٥) على ما بقي (من الطلاق) (٦) (قال) (٧) قلت: فطلقها أخرى (فبانت منه) (٨) فتزوجت زوجًا فدخل بها ثم مات عنها (أو طلقها) (٩)، فرجعت إلى زوجها الأول، على كم هي عنده؟ (قال: هي على ما بقي، قلت فطلقها أخرى فحلت فتزوجت زوجًا ثم دخل بها ثم مات عنها فرجعت إلى زوجها الأول، على كم هي عنده؟) (١٠) قال: هي على ثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رجائ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قبیصہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ بائنہ ہوگئی، اس نے عدت پوری کی اور کسی مرد سے شادی کرلی، اس نے اس سے دخول کیا پھر وہ مرگیا یا اس کو طلاق دے دی، یہ پھر پہلے خاوند کے پاس واپس آئی تو کتنی طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ باقی ماندہ طلاقوں کے ساتھ، میں نے سوال کیا کہ اگر اس نے اسے دوسری مرتبہ طلاق دی، وہ بائنہ ہوگئی، پھر اس نے کسی آدمی سے نکاح کیا، اس نے اس سے دخول کیا اور پھر وہ مرگیا یا اسے طلاق دے دی، یہ پھر پہلے خاوند کے پاس واپس آئی تو کتنی طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ باقی ماندہ طلاقوں کے ساتھ، میں نے کہا کہ اس نے پھر طلاق دے دی، اس نے عدت کے بعد کسی اور مرد سے شادی کرلی ، اس نے اس سے دخول کیا اور پھر اسے طلاق دے دی یا مرگیا یہ عورت پھر پہلے خاوند کے پاس واپس آئی تو کتنی طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ تین طلاقوں کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 19416
١٩٤١٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إن دخل بها فإنها عنده على ثلاث تطليقات، وإن لم يدخل بها فإنها عنده على بقية الطلاق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس نے دخول کیا تو تین طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی اور اگر دخول نہ کیا تو باقی ماندہ طلاقوں کے ساتھ واپس آئے گی۔