کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کسی کافر کی بیوی اسلام قبول کرلے او راس کا خاوند اسلام قبول کرنے سے انکار کردے توجن حضرات کے نزدیک یہ ایک طلاق کے حکم میں ہے
حدیث نمبر: 19325
١٩٣٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن سليمان عن أبيه أن الحسن وعمر بن عبد العزيز قالا: تطليقة بائنة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19325
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19325، ترقيم محمد عوامة 18624)
حدیث نمبر: 19326
١٩٣٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن (١) (سعيد) (٢) عن قتادة عن الحسن قال: إذا كان الرجل وامرأته مشركين فأسلمت وأبى أن يسلم، بانت منه بواحدة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی اور اس کی بیوی مشرک ہوں اور بیوی اسلام قبول کرلے اور خاوند اسلام قبول کرنے سے انکار کردے تو عورت کو ایک طلاق بائنہ ہوجائے گی اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19326
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19326، ترقيم محمد عوامة 18625)
حدیث نمبر: 19327
١٩٣٢٧ - وقال عكرمة: مثل ذلك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19327
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19327، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 19328
١٩٣٢٨ - حدثنا أبو بكر (قال: نا) (١) معن (بن) (٢) عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: تفريق الإمام تطليقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی کا جدائی کرانا ایک طلاق ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19328
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19328، ترقيم محمد عوامة 18626)