کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی
حدیث نمبر: 19308
١٩٣٠٨ - حدثنا أبو عبد الرحمن (بقي) (١) بن مخلد قال: نا أبو بكر عبد اللَّه (بن) (٢) محمد بن أبي شيبة قال: نا عباد بن العوام عن خالد عن عكرمة عن ابن عباس قال: إذا أسلمت النصرانية قبل زوجها فهي أملك بنفسها (٣).
حدیث نمبر: 19309
١٩٣٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن سليمان عن أبيه أن الحسن وعمر بن عبد العزيز (قالا) (١): في النصرانية تسلم تحت زوجها، قالا: الإسلام أخرجها منه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی عیسائی کی عیسائی بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو اسلام عورت کو اس کی بیوی ہونے سے نکال دے گا۔
حدیث نمبر: 19310
١٩٣١٠ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) عباد بن العوام عن حجاج عن عطاء في النصرانية تسلم تحت زوجها قال: يفرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
حدیث نمبر: 19311
١٩٣١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن ليث عن عطاء وطاوس ومجاهد في نصراني تكون تحته نصرانية فتسلم قالوا: إن أسلم معها فهي امرأته، وإن لم يسلم فرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت طاوس اور حضرت مجاہد s فرماتے ہیں کہ اگر کسی عیسائی شخص کی عیسائی بیوی اسلام قبول کرلے تو اگر اس کا خاوند بھی اسلام قبول کرلے تو یہ اس کی بیوی رہے گی اور اگر وہ اسلام قبول نہ کرے تو ان کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
حدیث نمبر: 19312
١٩٣١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن الشيباني عن (السفاح) (١) بن (مطر) (٢) عن داود (بن) (٣) (كردوس) (٤) قال: كان رجل من بني (تغلب) (٥) يقال له (عبادة) (٦) بن النعمان بن (زرعة) (٧) (كانت) (٨) عنده (امرأة) (٩) من بني تميم، وكان (عبادة) (١٠) نصرانيًا، فأسلمت امرأته وأبى أن يسلم، (ففرق) (١١) عمر بينهما (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داود بن کردوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو تغلب کا ایک شخص عبادہ بن نعمان بن زرعہ جو کہ ایک عیسائی تھا، اس کے نکاح میں بنو تمیم کی ایک عیسائی عورت تھی، اس عورت نے اسلام قبول کرلیا لیکن عبادہ نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔
حدیث نمبر: 19313
١٩٣١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: إذا أسلمت المرأة قبل زوجها انقطع ما بينهما من النكاح.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب عورت نے اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلیا تو ان کے نکاح کا رشتہ ختم ہوگیا۔
حدیث نمبر: 19314
١٩٣١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن الشيباني عن يزيد بن علقمة أن رجلًا من بني (تغلب) (١) يقال له (عبادة) (٢) بن النعمان فكان تحته امرأة من بني تميم فأسلمت فدعاه عمر فقال: إما أن تسلم، وإما أن (أنزعها) (٣) منك، فأبى أن يسلم (فنزعها) (٤) منه عمر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو تغلب کا ایک آدمی جس کا نام عبادہ بن نعمان تھا، اس کے عقد میں بنو تمیم کی ایک عورت تھی، اس عورت نے اسلام قبول کرلیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے خاوند کو بلایا اور فرمایا کہ چاہو تو اسلام قبول کرلو بصورتِ دیگر ہم تمہاری بیوی کو تم سے جدا کردیں گے، اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی بیوی کو اس سے جدا کردیا۔
حدیث نمبر: 19315
١٩٣١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن مطرف (عن) (١) الحكم في اليهودي والنصراني تسلم امرأته عنده (قال) (٢): يفرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی عیسائی یا یہودی کی بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو ان کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
حدیث نمبر: 19316
١٩٣١٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن ابن شبرمة عن عمرو بن مرة قال: سألت سعيد بن جبير عن رجل نصراني وامرأته نصرانية فأسلمت، قال: فَرّق (فَرّق) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کسی عیسائی مرد کی عیسائی بیوی نے اسلام قبول کرلیا تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کے درمیان جدائی کرادو، ان کے درمیان جدائی کرادو۔
حدیث نمبر: 19317
١٩٣١٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن سالم عن سعيد قال: يفرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے اسلام قبول کرلے تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔