کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنے غلام کو شادی کی اجازت دے تو طلاق کاحق غلام کے پاس ہوگا
حدیث نمبر: 19287
١٩٢٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن عبد الرحمن بن يزيد المكي عن سالم والقاسم وعبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عمر قالوا: قال عمر: إنما الطلاق بيد من يحل له الفرج (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا حق اسے ہوتا ہے جس کے لئے شرمگاہ حلال ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 19288
١٩٢٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن مبارك عن (أبي) (١) سعيد بن (عوذ) (٢) قال: سمعت سعيد بن جبير سأله رجل فقال: أنكحت (عبدي أمتي) (٣) ثم أردت أن أفرق بينهما، قال: ليس لك (ذلك) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید بن عوذ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ میں نے اپنی باندی کا نکاح اپنے غلام سے کیا پھر میں نے سوچا کہ میں ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دوں تو کیا میں ایسا کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم ایسا نہیں کرسکتے۔
حدیث نمبر: 19289
١٩٢٨٩ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): نا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: إذا أذن السيد (٢) فالطلاق بيد (العبد) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آقا نے اجازت دی تو طلاق کا اختیار غلام کو ہی ہوگا۔
حدیث نمبر: 19290
١٩٢٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن (حصين) (١) عن الشعبي قال: إذا تزوج بإذن سيده فالطلاق بيد العبد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے آقا کی اجازت سے شادی کی تو پھر بھی طلاق کا اختیار غلام کو ہی ہوگا۔
حدیث نمبر: 19291
١٩٢٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا الفضل بن دكين عن مبارك بن فضالة عن إبراهيم (١) أبي إسماعيل عن علي وعبد الرحمن بن عوف وحذيفة (قالوا) (٢): في العبد يتزوج بإذن مواليه: (الطلاق) (٣) بيد العبد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ م فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے آقا کی اجازت سے شادی کی تو پھر بھی طلاق کا اختیار غلام کو ہی ہوگا۔
حدیث نمبر: 19292
١٩٢٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر عن ليث عن عطاء وطاوس ومجاهد قالوا: (إذا) (١) كانت المملوكة لغيره أو كانت (عنده) (٢) وقد أذن له أن يتزوجها فالطلاق بيد المملوك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت طاوس اور حضرت مجاہد s فرماتے ہیں کہ اگر باندی کسی دوسرے شخص کی ملکیت ہو اور کسی غلام کا مالک اسے اس باندی سے شادی کرنے کی اجازت دے دے تو طلاق کا حق غلام کو ہوگا۔
حدیث نمبر: 19293
١٩٢٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن هشام بن عروة قال: قلت لأبي الرجل ينكح مملوكه مملوكته هل يصلح له (أن) (١) ينزعها منه بغير طيب نفس منه؟ قال: بئس ما صنع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی باندی کی اپنے غلام سے شادی کرا دے تو کیا اس کی رضامندی کے بغیر دونوں کو جدا کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر ایسا کرے تو بہت برا کرے گا۔
حدیث نمبر: 19294
١٩٢٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: إذا نكح العبد بإذن سيده فإن الطلاق بيد العبد، إن شاء طلق وإن شاء أمسك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام نے اپنے آقا کی اجازت سے شادی کی تو طلاق کا اختیار غلام کو ہوگا، اگر چاہے تو طلاق دے اور اگر چاہے تو روکے رکھے۔
حدیث نمبر: 19295
١٩٢٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب قال: قلت لسعيد بن جبير: إن جابر بن زيد كان يقول: إذا زوج السيد فإن الطلاق بيده، فقال: (كذب) (١) جابر ابن زيد.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے کہا کہ حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ جب آقا نے غلام کی شادی کرائی تو طلاق کا حق اسی کو ہوگا، حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جابر بن زید نے غلط کہا۔
حدیث نمبر: 19296
١٩٢٩٦ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد قال: الطلاق بيد من يملك البضع.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا اختیار اسی کو ہوگا جو شرمگاہ کا حق رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 19297
١٩٢٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم (١) بن وردان عن برد عن مكحول قال: إذا تزوج العبد بإذن مولاه فطلاقه بيد العبد، ليس (للسيد) (٢) أن يُطلَّق عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب غلام نے اپنے آقا کی اجازت سے شادی کی تو طلاق کا حق غلام کو ہوگا۔ آقا اس کی طرف سے طلاق نہیں دے سکتا۔
حدیث نمبر: 19298
١٩٢٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا (زوج) (١) الرجل عبده (أو) (٢) أذن له في (التزويج) (٣) فإن الطلاق بيد العبد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آقا نے غلام کی شادی کرائی یا اسے شادی کی اجازت دی تو طلاق کا حق غلام کو ہوگا۔
حدیث نمبر: 19299
١٩٢٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن جويبر عن الضحاك قال: من زوج عبده (أمته) (١) بمهر (وبينة) (٢) لا يصلح له أن ينزعها منه، ولا يحل له فرجها حتى يموت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنے غلام کی اپنی باندی سے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں شادی کرادی تو وہ اس سے چھین نہیں سکتا، اور موت تک اب اس باندی کی شرمگاہ اس کے لئے حلال نہیں۔
حدیث نمبر: 19300
١٩٣٠٠ - [حدثنا أبو بكر قال: نا (عبيدة) (١) بن حميد عن (عبيد اللَّه) (٢) عن نافع عن ابن عمر قال: إذا أذن السيد لعبده أن يتزوج فالطلاق بيد العبد] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آقا نے اپنے غلام کو شادی کی اجازت دی تو طلاق کا اختیار غلام کو ہوگا۔
حدیث نمبر: 19301
١٩٣٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب عن سعيد عن قتادة عن أنس بن مالك وابن عباس وجابر بن عبد اللَّه أنهم قالوا: الطلاق بيد (السيد) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ م فرماتے ہیں کہ طلاق کا اختیار آقا کو ہوگا۔
حدیث نمبر: 19302
١٩٣٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: إذا زوجت عبدك أمتك، ثم بعته فليس لك أن (تمنعه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم نے اپنے باندی کی اپنے غلام سے شادی کردی اور پھر غلام کو بیچ بھی دیا تو اسے اس کی بیوی کے پاس آنے سے منع نہیں کرسکتے۔
حدیث نمبر: 19303
١٩٣٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن ⦗٢٣٤⦘ (سعيد) (١) ابن المسيب والحسن (قالا) (٢): إذا تزوج العبد بإذن سيده فالطلاق بيد العبد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب غلام نے اپنے آقا کی اجازت سے شادی کی تو طلاق کا حق غلام کو ہوگا۔