کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ یہ طلاق نہیں ہے، البتہ خریدنے والا اس وقت تک جماع نہیں کرسکتا جب تک اسے طلاق نہ دے دی جائے
حدیث نمبر: 19273
١٩٢٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن الزهري عن أبي سلمة أن عبد الرحمن ابن عوف اشترى جارية من عاصم بن عدي فأخبر أن لها (زوجًا) (١) فردها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عدی رحمہ اللہ سے ایک باندی خریدی انہیں بتایا گیا کہ اس کا خاوند بھی ہے تو انہوں نے اس باندی کو واپس کردیا۔
حدیث نمبر: 19274
١٩٢٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن يحيى (بن سعيد) (١) عن سليمان بن يسار أن عاصم بن (عدي) (٢) وهب لعبد الرحمن بن عوف جارية فلما دنا منها أخبرته أن لها زوجًا (٣) فردها عليه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عاصم بن عدی رحمہ اللہ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ایک باندی ہدیہ میں دی، جب وہ اس کے قریب جانے لگے تو اس نے بتایا کہ اس کا خاوند ہے، پس حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اس باندی کو واپس کردیا۔
حدیث نمبر: 19275
١٩٢٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك عن عبيد اللَّه بن سعد عن (يسار بن ⦗٢٢٧⦘ نمير) (١) عن عمر قال: (اشتر) (٢) بضعها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس نے اس کی شرمگاہ کو بھی خریدا ہے۔
حدیث نمبر: 19276
١٩٢٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن أبي إسحاق (عن مصعب) (١) بن سعد أن سعدًا اشترى جارية لها زوج فلم يقربها حتى اشترى بضعها من زوجها بخمسمائة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رحمہ اللہ نے ایک ایسی باندی خریدی جس کا خاوند تھا ، وہ اس باندی کے اس وقت تک قریب نہ گئے جب تک اس کے خاوند سے اس کا حق پانچ سو کے عوض نہ خرید لیا۔
حدیث نمبر: 19277
١٩٢٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا يونس بن أبي إسحاق عن أبيه عن مصعب بن سعد أن سعدًا زوج جارية له (مملوكًا) (١) له (فتبعتها) (٢) نفسه (قال) (٣): فجعل لغلامه حقًا على أن يطلقها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک باندی کی شادی اپنے ایک غلام سے کرادی۔ بعد میں انہوں نے خود اس باندی کو حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے غلام کو اس بات پر عوض دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 19278
١٩٢٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبدة) (١) بن سليمان عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع أن رجلًا أهدى إلى عثمان جارية فلما جردها قالت: إن لي زوجًا، فردها إلى مولاها (وقال) (٢): أهديت (لي) (٣) جارية لها زوج (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی باندی ہدیہ میں دے دی، جب انہوں نے اس سے جماع کرنا چاہا تو اس نے کہا کہ میرا ایک خاوند ہے، تو انہوں نے وہ اس کے مالک کو واپس کردی اور فرمایا کہ تو نے مجھے ایک ایسی باندی ہبہ کی جس کا خاوند تھا۔
حدیث نمبر: 19279
١٩٢٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن (هاشم) (١) عن ابن أبي ليلى عن الشعبي قال: أهدى رجل من همدان لعلي جارية، فلما أتته سألها (علي) (٢): أفارغة أم مشغولة؟ فقالت: مشغولة يا أمير المؤمنين، قال: فاعتزلها وأرسل إلى زوجها فاشترى بضعها منه بعشرين وأربعمائة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمدان کے ایک آدمی نے اپنی ایک باندی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہدیہ میں دی، جب وہ ان کے پاس آئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے سوال کیا کہ تو فارغہ ہے یا مشغول ہے ؟ اس نے کہا اے امیر المؤمنین ! میں مشغول ہوں یعنی میرا خاوند ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے پیچھے ہٹ گئے اور اس کے خاوند کو پیغام بھیج کر بلوایا اور اس کا حق چار سو بیس میں خرید لیا۔
حدیث نمبر: 19280
١٩٢٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن محمد بن إسحاق عن نافع عن ابن عمر قال: العبد أحق بامرأته أينما وجدها، إلا أن يكون (طلقها) (١) طلاقًا بائنًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غلام اپنی بیوی کا زیادہ حق دار ہے جہاں کہیں بھی اسے پائے، البتہ اگر اس کو طلاق بائنہ دے دی تو اس کا حق ختم ہوگیا۔
حدیث نمبر: 19281
١٩٢٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن أيوب عن ابن سيرين قال: نبئت أن عبد الرحمن (١) (رأى) (٢) (امرأة) (٣) فأعجبته (فسأل) (٤) عنها، قالوا: هذه أمة لفلان، فاشتراها بأربعة آلاف (درهم) (٥) (وإذا) (٦) لها زوج فأعطاه مائة ⦗٢٢٩⦘ درهم على أن يطلقها، فأبى فزاده فأبى (فزاده فأبى) (٧) حتى بلغ خمسمائة فأبى فردها (عليه) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے ایک عورت دیکھی جو انہیں بھلی محسوس ہوئی، انہوں نے اس کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ فلاں کی باندی ہے، انہوں نے چار ہزار درہم کے عوض اسے خرید لیا، بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا خاوند بھی ہے، چناچہ انہوں نے اس کے خاوند کو ایک سودرہم دیئے کہ وہ اسے طلاق دے دے، اس نے طلاق دینے سے انکار کردیا، انہوں نے رقم کو بڑھایا اس نے پھر انکار کیا وہ بڑھاتے رہے اور وہ انکار کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے پانچ سو درہم دینے کی پیش کش کی لیکن اس نے پھر بھی انکار کردیا تو حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے وہ باندی اس کو دے دی۔
حدیث نمبر: 19282
١٩٢٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن مسعر عن (معبد بن خالد) (١) أو عن (أبي) (٢) حصين أن أبا مسعود كره أن يطأها ولها زوج (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ آدمی عورت سے جماع کرے جبکہ اس کا خاوند بھی ہو۔
حدیث نمبر: 19283
١٩٢٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن مسعر عن رجل عن شريح قال: إني لأكره أن أطأ فرج امرأة لو وجدت معها رجلًا لم أقم عليه الحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اس بات کو مکروہ خیال کرتا ہوں کہ میں کسی ایسی عورت سے جماع کروں جس کے ساتھ میں کسی آدمی کو دیکھوں تو اس پر حد جاری نہ کرسکوں۔
حدیث نمبر: 19284
١٩٢٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا سفيان وعلي بن صالح عن قيس بن وهب (الهمداني) (١) عن أبي سلمة بن عبد الرحمن (عن عبد الرحمن) (٢) بن عوف أنه كره أن يطأها ولها زوج (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ کسی ایسی عورت سے جماع کیا جائے جس کا خاوند ہو۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ان کی طرف منسوب ہے کہ اسلام میں ایک عورت کے دو خاوند نہیں ہوسکتے۔
حدیث نمبر: 19285
١٩٢٨٥ - وزاد فيه علي بن صالح: وقال عبد الرحمن بن عوف: لا يصلح (زوجان) (١) في الإسلام (٢).
حدیث نمبر: 19286
١٩٢٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن عبد الملك بن أبي سليمان عن أنس ابن سيرين عن ابن عمر أن عبد الرحمن بن عوف اشترى (جارية) (١) لها زوج فردها وقال: (دلست) (٢) لي إذن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی باندی خریدی جس کا خاوند تھا پھر اسے واپس کردی اور فرمایا کہ وہ میرے لئے مشتبہ تھی۔