کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19223
١٩٢٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل يطلق امرأته ثلاثًا ثم يجحدها قال: أحب إلي أن ترافعه إلى السلطان، فإن حلف فأحب إلي أن (تفتدى) (١) منه إذا حلف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ مقدمہ سلطان کے پاس لے جایا جائے اور اس آدمی سے قسم اٹھوائی جائے، اگر وہ قسم کھالے تو میرے خیال میں بہتر یہ ہے کہ عورت اسے فدیہ دے کر خلع کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19223
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19223، ترقيم محمد عوامة 18530)
حدیث نمبر: 19224
١٩٢٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إن كانت صادقة فقد حل (لها) (١) الفدية.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو اگر عورت سچی ہے تو اس کے لئے فدیہ دے کر خلع لینا درست ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19224
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19224، ترقيم محمد عوامة 18531)
حدیث نمبر: 19225
١٩٢٢٥ - [حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن يونس عن الحسن قال: (تقدمه) (١) إلى السلطان (فتستحلفه) (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت ایسی صورت میں خاوند کو سلطان کے پاس لے جائے اور وہ اس سے قسم لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19225
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19225، ترقيم محمد عوامة 18532)
حدیث نمبر: 19226
١٩٢٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن سليمان التيمي (عن الحسن) (١) في المرأة تدعي أن زوجها طلقها ثلاثًا وليس لها بينة قال: كان يأمرها أن تقر عنده ولا (تفر) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے خاوند نے اسے تین طلاقیں دے دی ہیں، اس عورت کے پاس کوئی گواہی نہیں ہے وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اسی کے پاس رہے اس کے پاس سے کہیں نہ جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19226
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19226، ترقيم محمد عوامة 18533)
حدیث نمبر: 19227
١٩٢٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن داود عن جابر بن زيد قال: هما زانيان ما (اجتمعا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک وہ اکٹھے رہیں گے زنا کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19227
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19227، ترقيم محمد عوامة 18534)
حدیث نمبر: 19228
١٩٢٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن سفيان عن إبراهيم بن مهاجر (عن مجاهد) (١) قال: كانت لابن عمر (سبية) (٢) فكان زوجها يسارها بالطلاق فقالت لابن عمر: إنه يكون منه الشيء في السر؟ فأحلفه وتركه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک باندی کا خاوند اسے علیحدگی میں طلاق دیتا تھا، اس باندی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بات کی تو انہوں نے اس کے خاوند سے قسم لی اور اسے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19228
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ إبراهيم بن مهاجر صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19228، ترقيم محمد عوامة 18535)
حدیث نمبر: 19229
١٩٢٢٩ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: نا عبد الرحمن بن مهدي عن الهذيل بن بلال عن شيخ يكنى أبا عمرو (٢) قال: كنت جالسًا عند ابن عباس فأتته امرأة فقالت: إن زوجها يطلقها في السر، و (يجحد) (٣) في العلانية، فقال: عليه أن يحلف أربع شهادات باللَّه ما طلق، والخامسة أن لعنة اللَّه (عليه) (٤) إن كان فعل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ایک بزرگ ابو عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میرا خاوند علیحدگی میں مجھے طلاق دیتا ہے اور لوگوں کے سامنے آکر انکار کردیتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ آدمی کو چاہئے کہ اللہ کی چار قسمیں کھائے کہ اس نے طلاق نہیں دی اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر اس نے طلاق دی ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19229
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19229، ترقيم محمد عوامة 18536)
حدیث نمبر: 19230
١٩٢٣٠ - حدثنا أبو بكر قال. نا عبد الرحمن بن مهدي عن الحكم (بن) (١) عطية قال: سمعت محمد بن سيرين وسئل عن الرجل يطلق امرأته ثلاثًا ثم يجحدها قال: تهرب منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد انکار کرے تو عورت اس کے پاس سے بھاگ جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19230
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19230، ترقيم محمد عوامة 18537)
حدیث نمبر: 19231
١٩٢٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: (تستحلفه) (١) دبر الصلاة، فإن حلف ردت (عليه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد انکار کردے تو عورت نماز کے بعد اس سے قسم لے، اگر وہ قسم کھالے تو وہ عورت واپس آجائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19231
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19231، ترقيم محمد عوامة 18538)
حدیث نمبر: 19232
١٩٢٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن حماد قال: سألته عن رجل طلق امرأته ثلاثًا وليس لها (بينة) (١)، قال: تفتدي بمالها، قال قلت: فإن أبى؟ قال: تهرب منه ولا تقارّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور عورت کے پاس کوئی گواہی نہ ہو اور مرد انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ عورت فدیہ دے کر اس مرد سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ میں نے کہا اگر مرد انکار کرے تو پھر ؟ انہوں نے فرمایا کہ عورت اس کے پاس سے بھاگ جائے، اس کے پاس نہ ٹھہرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19232
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19232، ترقيم محمد عوامة 18539)
حدیث نمبر: 19233
١٩٢٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا (معاذ بن معاذ) (١) عن سوار (عن) (٢) محمد قال: كان يأمر مثل هذه (أن) (٣) تهرب.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ اس صورت میں عورت کو مرد کے پاس سے بھاگ جانے کا مشورہ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19233
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19233، ترقيم محمد عوامة 18540)