کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19210
١٩٢١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن الشعبي عن مسروق (١) عن عبد اللَّه في الرجل يهب امرأته لأهلها قال: إن قبلها أهلها فتطليقة ⦗٢١٢⦘ يملك رجعتها، وإن لم يقبلوها فلا شيء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر اس کے گھر والے قبول کرلیں تو ایک طلاق ہے اور اسے رجوع کا حق ہوگا اور اگر وہ قبول نہ کریں تو کچھ لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 19211
١٩٢١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إن قبلوها فتطليقة (يملك) (١) (رجعتها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر وہ قبول کرلیں تو ایک طلاق ہے اور اسے رجوع کا حق ہوگا۔
حدیث نمبر: 19212
١٩٢١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك عن أبي حصين عن يحيى بن (وثاب) (١) -قال بعض أصحابنا هو عن مسروق (٢) - عن عبد اللَّه قال: إذا قال الرجل لامرأته: (استفلحي) (٣) (بأمرك) (٤) أو اختاري (أو) (٥) قد (وهبتك) (٦) لأهلك فهي تطليقة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا تو اپنے معاملے کو خود دیکھ لے، یا کہا کہ تجھے اختیار ہے یا کہا کہ میں نے تجھے تیرے گھر والوں کے لئے ہبہ کردیا تو یہ ایک طلاق کے کلمات ہیں۔
حدیث نمبر: 19213
١٩٢١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن يزيد (بن) (١) إبراهيم عن الحسن عن ⦗٢١٣⦘ رجل من أصحاب النبي ﷺ قال: إن قبلوها فواحدة بائنة وإن لم يقبلوها فواحدة وهو أحق (برجعتها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ ایک صحابی سے نقل کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر وہ قبول کرلیں تو ایک طلاق بائنہ ہے اور اگر وہ قبول نہ کریں تو ایک طلاق ہے اور مرد کو رجوع کا حق ہوگا۔
حدیث نمبر: 19214
١٩٢١٤ - (١) حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن الحسن عن زيد بن ثابت قال: إذا وهبها لأهلها فقبلوها فثلاث، لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره، وإن ردوها فواحدة وهو أحق بها، وبه كان يأخذ الحسن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو یہ تین طلاقوں کے قائم مقام ہے، اب وہ عورت اس خاوند کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرلے۔ اگر وہ قبول کرنے سے انکار کردیں تو ایک طلاق ہے اور آدمی کو رجوع کا حق حاصل ہوگا۔ حسن رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے تھی۔
حدیث نمبر: 19215
١٩٢١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن عطاء في (رجل) (١) تزوج امرأة ثم وهبها لأهلها قال عطاء: إن قبلوها فهي تطليقة بائنة، وإن ردوها فلا شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر وہ قبول کرلیں تو ایک طلاق اور اگر وہ قبول نہ کریں تو کچھ لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 19216
١٩٢١٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا يونس بن محمد عن (عبد الواحد) (١) بن زياد (٢) عن ليث عن (طاوس) (٣) في التي توهب لأهلها: تطليقة وهو (أحق) (٤) برجعتها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو ایک طلاق ہے اور مرد کو رجوع کا حق ہوگا۔
حدیث نمبر: 19217
١٩٢١٧ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: نا (وكيع قال: حدثنا) (٢) سفيان عن مطرف عن الحكم عن يحيى بن الجزار عن علي في الموهوبة لأهلها: إن قبلوها فتطليقة بائنة وإن ردوها فهي واحدة وهو أحق بها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر وہ قبول کرلیں تو ایک طلاق بائنہ اور اگر وہ انکار دیں تو ایک طلاق رجعی ہے اور مرد کو رجوع کا حق ہوگا۔
حدیث نمبر: 19218
١٩٢١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن مطرف عن الحكم عن يحيى بن الجزار عن علي بنحو منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 19219
١٩٢١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع: إذا وهبها لأهلها وهو لا يريد بذلك الطلاق؛ فليس بشيء: قبلوها أو ردوها، وإن نوى طلاقا فهو ما نوى من الطلاق؛ قبلوها أو ردوها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر طلاق کا ارادہ نہیں تھا تو کچھ نہ ہوا خواہ وہ قبول کرلیں یا واپس کردیں اور اگر طلاق کی نیت کی تو جو نیت کی وہ واقع ہوگا خواہ وہ واپس کردیں یا قبول کرلیں۔