کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کسی شخص نے کہا کہ میرے لئے ہر حلال حرام ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19204
١٩٢٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عياش عن مغيرة عن إبراهيم في رجل قال: كل حل عَلَيَّ فهو حرام (قال) (١): لولا امرأته لأمرته أن يكفر يمينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کہا کہ میرے لئے ہر حلال حرام ہے تو اگر اس کی بیوی نہ ہو تو میں اسے قسم کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19204
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19204، ترقيم محمد عوامة 18511)
حدیث نمبر: 19205
١٩٢٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن عمر (بن ذر) (١) قال: سألت الشعبي عن رجل قال: كل حلٌ عليّ حرام قال: (لا) (٢) يوجب طلاقًا ولا يحرم حلالًا، يكفر يمينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن ذر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کسی شخص نے کہا کہ میرے لئے ہر حلال حرام ہے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ طلاق کو ثابت نہیں کرتا اور حلال کو حرام نہیں کرتا، وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19205
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19205، ترقيم محمد عوامة 18512)
حدیث نمبر: 19206
١٩٢٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن حماد عن إبراهيم قال: إذا قال: كل حلٌ عليّ حرام، إن نوى طلاقًا فهي تطليقة وهو أملك بها، وإن لم ينو طلاقًا فهي يمين يكفرها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کہا کہ میرے لئے ہر حلال حرام ہے تو اگر اس نے طلاق کی نیت کی تو ایک طلاق ہوگی اور وہ رجوع کا زیادہ حق دار ہے اور اگر طلاق کی نیت نہیں کی تو یہ قسم ہے اس کا کفارہ دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19206
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19206، ترقيم محمد عوامة 18513)
حدیث نمبر: 19207
١٩٢٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن أبي جعفر قال: إذا قال: كل حِلٌ عليّ حرام أطعم عشرة مساكين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کہا کہ میرے لئے ہر حلال حرام ہے تو دس مسکینوں کوکھاناکھلائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19207
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19207، ترقيم محمد عوامة 18514)
حدیث نمبر: 19208
١٩٢٠٨ - حدثنا أبو بكر (١) قال: نا عبد الرحمن بن مهدي عن هشام الدستوائي عن قتادة عن الحسن وجابر بن زيد قالا: كل حل علي حرام (فكفارته كفارة) (٢) يمين.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اور حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کہا کہ میرے لئے ہر حلال حرام ہے تو قسم کا کفارہ دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19208
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19208، ترقيم محمد عوامة 18515)
حدیث نمبر: 19209
١٩٢٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حميد بن عبد الرحمن عن (حسن) (١) بن صالح عن جابر عن علي في الرجل يقول لامرأته: كل حِلٌ عليَّ فهو حرام قال: (تحرم) (٢) عليه امرأته ولا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره، ويكفر يمينه من ماله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی کے بارے میں کہا کہ میرے لئے ہر حلال چیز حرام ہے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی، اور اس عورت کے لئے دوسرے شخص سے نکاح کئے بغیر اس سے نکاح کرنا درست نہیں اور مرد اپنے مال میں سے قسم کا کفارہ ادا کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19209
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ جابر ضعيف، ولا يروي عن علي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19209، ترقيم محمد عوامة 18516)