کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی کو کہا کہ تومجھ پر حرام ہے تو جن حضرات کے نزدیک یہ طلاق نہیں قسم ہے
حدیث نمبر: 19188
١٩١٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن مبارك عن خالد (عن) (١) عكرمة عن عمر قال: الحرام يمين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم کے حکم میں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19188
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19188، ترقيم محمد عوامة 18496)
حدیث نمبر: 19189
١٩١٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب عن عكرمة عن عمر مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19189
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19189، ترقيم محمد عوامة 18497)
حدیث نمبر: 19190
١٩١٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن مطر عن عطاء عن عائشة (أنها) (١) قالت: يمين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم کے حکم میں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19190
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19190، ترقيم محمد عوامة 18498)
حدیث نمبر: 19191
١٩١٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس (وعن جابر بن زيد وسعيد بن جبير وسعيد بن المسيب وسليمان بن يسار) (١) أنهم قالوا: الحرام يمين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت جابر بن زید، حضرت سعید بن جبیر، حضرت سعید بن مسیب، حضرت سلیمان بن یسار s فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم کے حکم میں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19191
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وأخرجه البخاري (٥٢٦٦)، ومسلم (١٤٧٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19191، ترقيم محمد عوامة 18499)
حدیث نمبر: 19192
١٩١٩٢ - [حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن (سعيد) (١) عن مطر عن أبي سلمة قال: ما أبالي إياها حرمت أو (ماء فراتا) (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت کو حرام کہنا اور فرات کے پانی کو حرام کہنا ایک جیسا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19192
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19192، ترقيم محمد عوامة 18500)
حدیث نمبر: 19193
١٩١٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن عطاء وطاوس قالا: يمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ اور حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم کے حکم میں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19193
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19193، ترقيم محمد عوامة 18501)
حدیث نمبر: 19194
١٩١٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: قال (أناس) (١): ثلاث وقال آخرون: كفارة يمين، وأنا أرى عليه كفارة الظهار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بیوی کو حرام کہنے سے تین طلاقیں ہوجائیں گی اور بعض کہتے ہیں کہ قسم کا کفارہ دینا ہوگا جبکہ میری رائے یہ ہے کہ ظہار کا کفارہ دینا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19194
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19194، ترقيم محمد عوامة 18502)
حدیث نمبر: 19195
١٩١٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن يحيى بن سعيد (١) عن سعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید رحمہ اللہ اور حضرت ابوجعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم کے حکم میں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19195
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19195، ترقيم محمد عوامة 18503)
حدیث نمبر: 19196
١٩١٩٦ - وعن حجاج عن أبي جعفر قالا: الحرام يمين.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19196
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19196، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 19197
١٩١٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير قال: حدثني من لا أتهم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: الحرام يمين، ﴿قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم کے حکم میں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے تم پر قسموں کے کفارے کو مقرر کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19197
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19197، ترقيم محمد عوامة 18504)
حدیث نمبر: 19198
١٩١٩٨ - [حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن برد عن (مكحول) (١) (وسليمان) (٢) ابن (يسار) (٣) قالا: (الحرام) (٤) يمين] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ اور حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم کے حکم میں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19198
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19198، ترقيم محمد عوامة 18505)
حدیث نمبر: 19199
١٩١٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن إسماعيل عن الشعبي عن مسروق قال: ما أبالي حرمتها أو حرمت (جفنة) (١) من ثريد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک عورت کو حرام کرنا اور ثرید کے پیالے کو حرام کرنا ایک جیسا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19199
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19199، ترقيم محمد عوامة 18506)
حدیث نمبر: 19200
١٩٢٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن جويبر عن الضحاك أن أبا بكر وابن مسعود قالوا: من قال لامرأته: هي عليّ حرام فليست عليه بحرام وعليه كفارة يمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ م فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میرے لئے حرام ہے تو وہ حرام نہیں ہوگی، اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19200
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19200، ترقيم محمد عوامة 18507)
حدیث نمبر: 19201
١٩٢٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن إسماعيل عن الشعبي قال: إذا قال الرجل لامرأته: أنت عليّ حرام فليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ کوئی چیز نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19201
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19201، ترقيم محمد عوامة 18508)
حدیث نمبر: 19202
١٩٢٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يعلى (عن) (١) إسماعيل قال: قال عامر: زعم أناس أن عليًا كان يجعلها عليه حراما حتى تنكح زوجًا غيره واللَّه ما قالها علي قط (ولأنا) (٢) أعلم بها من الذي قالها؟ إنما قال: ما أنا بمُحلها (٣) ولا بمحرمها عليه (إن شاء فليتقدم) (٤) وإن شاء فليتأخر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مسلک یہ تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے لئے حرام کہہ دے تو اس سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور عورت اس خاوند کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرلے۔ خدا کی قسم ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کبھی ایسا نہیں فرمایا اور نہ میں کسی ایسے شخص کو جانتا ہوں جو اس کا قائل تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ میں نہ تو اسے حلال قرار دیتا ہوں اور نہ حرام، اگر وہ چاہے تو تقدم کرلے اور اگر چاہے توتأخر کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19202
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19202، ترقيم محمد عوامة 18509)
حدیث نمبر: 19203
١٩٢٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن خصيف عن سعيد بن جبير في الرجل يقول لامرأته: أنت عليّ حرام قال: يعتق رقبة وإن قال ذلك لأربع فأربع رقاب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو ایک غلام آزاد کرے اور اگر یہ بات چار بیویوں سے کہی تو چار غلام آزاد کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19203
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19203، ترقيم محمد عوامة 18510)