کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19122
١٩١٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا جرير بن حازم عن الزبير (١) عن عبد اللَّه بن علي بن يزيد بن ركانة عن أبيه عن جده [أنه طلق امرأته البتة فأتى النبي ⦗١٩٣⦘ ﷺ (٢) فسأله فقال: "ما أردت بها؟ " فقال: واحدة، قال: " (آللَّه) (٣) ما أردت بها (إلا) (٤) واحدة؟ " قال: (آللَّه) (٥) ما أردت بها إلا واحدة] (٦) قال: " (فردَّ) (٧) عليه" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن علی رضی اللہ عنہ بن یزید بن رکانہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے داد احضرت رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیوی کو قطعی طلاق دی، پھر وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے پوچھا کہ اس سے تمہارا ارادہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ایک طلاق کا ارادہ تھا۔ حضور ﷺ نے پھر پوچھا کہ کیا خدا کی قسم ایک ہی طلاق کا ارادہ تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایک ہی طلاق کا ارادہ تھا۔ لہٰذا حضور ﷺ نے ان کے نکاح کو باقی رکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19122
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19122، ترقيم محمد عوامة 18437)
حدیث نمبر: 19123
١٩١٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن الحسن عن علي قال: هي ثلاث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قطعی طلاق تین طلاقیں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19123
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ عطاء اختلط، والحسن عن علي منقطع.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19123، ترقيم محمد عوامة 18438)
حدیث نمبر: 19124
١٩١٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة (عن) (١) (عبيد اللَّه) (٢) عن نافع عن ابن عمر: في (البتة) (٣): ثلاث تطليقات (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قطعی طلاق تین طلاقیں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19124
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19124، ترقيم محمد عوامة 18439)
حدیث نمبر: 19125
١٩١٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم عن عمر وعبد اللَّه قالا: تطليقة وهو أملك بها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ قطعی طلاق ایک طلاق ہے اور آدمی رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19125
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19125، ترقيم محمد عوامة 18440)
حدیث نمبر: 19126
١٩١٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن عمرو عن محمد (بن) (١) عباد عن المطلب بن حنطب عن عمر أنه (جعل) (٢) البتة: تطليقة، وزوجها أملك بها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قطعی طلاق ایک طلاق ہے اور آدمی رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19126
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19126، ترقيم محمد عوامة 18441)
حدیث نمبر: 19127
١٩١٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا سفيان بن عيينة عن (عمرو) (١) عن عبد اللَّه بن أبي سلمة عن سليمان بن يسار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19127
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19127، ترقيم محمد عوامة 18442)
حدیث نمبر: 19128
١٩١٢٨ - (و) (١) عن ابن أبي خالد عن الشعبي عن عبد اللَّه بن شداد عن عمر مثله (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19128
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19128، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 19129
١٩١٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن حميد ابن (هلال) (١) عن عمر في قول الرجل لامرأته: أنت طالق البتّة: إنها واحدة بائن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے قطعی طلاق ہے تو ایک طلاق بائنہ پڑے گی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین طلاقیں ہوں گی جبکہ حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اسے اس کی بدعت پر موقوف کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19129
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19129، ترقيم محمد عوامة 18443)
حدیث نمبر: 19130
١٩١٣٠ - وقال علي: هي ثلاث (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19130
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19130، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 19131
١٩١٣١ - وقال شريح: (نقفه) (١) على بدعته.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19131
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19131، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 19132
١٩١٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن الشيباني عن الشعبي قال: شهد عبد اللَّه بن شداد (عند) (١) عروة بن (المغيرة) (٢) (أن) (٣) عمر جعلها واحدة وهو أحق بها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قطعی طلاق کو ایک طلاق قرار دیا اور خاوند کو رجوع کا حق دار ٹھہرایا۔ جبکہ رائش بن عدی رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دی کہ انہوں نے طلاق قطعی کو تین طلاقیں قرار دیا۔ جبکہ حضرت شریح رحمہ اللہ کے نزدیک اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19132
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19132، ترقيم محمد عوامة 18444)
حدیث نمبر: 19133
١٩١٣٣ - وأن (الرايش) (١) بن عدي (٢) شهد على علي أنه جعلها ثلاثًا (٣) (٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19133
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19133، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 19134
١٩١٣٤ - وأن شريحًا قال: نيته.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19134
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19134، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 19135
١٩١٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن داود عن الشعبي قال: لما أرسل عروة إلى شريح اعتل عليه فعزم عليه ليقولن فقال: إن اللَّه سن ⦗١٩٦⦘ (سننًا) (١) وإن الناس قد ابتدعوا وإنهم (عمدوا) (٢) إلى بدعهم فخلطوها بالسنن، فإذا انتهى إليك من ذلك شيء (فميزوا) (٣)، السنن، فأمضوها على وجهها وألحقوا البدع بأهلها، أما (طالق) (٤) فمعروفة، وأما البتة فبدعة (نوقفه) (٥) على بدعته، فإن شاء تأخر وإن شاء تقدم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے اس بارے میں حضرت شریح رحمہ اللہ سے استفسار کیا، انہوں نے کوئی جواب دینے سے معذرت کی تو حضرت عروہ رحمہ اللہ کے اصرار پر انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دین پر عمل کرنے کے لئے شریعت کو مقرر کیا لیکن لوگوں نے اس میں بہت سی نئی باتیں ایجاد کر ڈالیں، انہوں نے بدعتوں کو سنتوں کے ساتھ خلط کرلیا، جب تمہارے پاس ایسا کوئی معاملہ آئے تو سنتوں کو الگ کرکے ان کے مطابق فیصلہ کرلیاکرو اور بدعتوں کواربابِ بدعت کے سپرد کردو۔ باقی جہاں تک طلاق کا معاملہ ہے تو وہ ایک معروف چیز ہے جبکہ قطعی ہونا ایک بدعت ہے جس کا مدار آدمی کی نیت پر ہے چاہے تو تقدم کرے اور چاہے توتاخر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19135
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19135، ترقيم محمد عوامة 18445)
حدیث نمبر: 19136
١٩١٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب عن نافع أن (رجلًا) (١) جاء (بظئر) (٢) (له) (٣) إلى عاصم بن عمر وابن الزبير فقال: إن ظئري هذا طلق امرأته البتة قبل أن يدخل بها فهل عندكما بذلك علم؟ أو هل (تجدان) (٤) له رخصة (فقالا) (٥): لا و (لكنا) (٦) تركنا ابن (عباس) (٧) وأبا هريرة عند عائشة فأتهم فسلهم ثم ارجع إلينا فأخبرنا، فأتاهم فسألهم فقال له أبو هريرة: لا تحل له حتى ⦗١٩٧⦘ تنكح زوجًا غيره (و) (٨) قال: ابن عباس: (بتت) (٩) وذكر (من) (١٠) عائشة متابعة لهما (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی رضاعی ماں کے خاوند کو حضرت عاصم بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس لائے اور فرمایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے طلاق قطعی دے دی ہے، آپ کے پاس اس بارے میں کوئی علم ہے ؟ یا آپ کے پاس اس بارے میں کوئی رخصت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں تو علم نہیں، تم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت ابوہریرہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ م کے پاس جاؤ اور ان سے سوال کرو، پھر آکر ہمیں بھی بتاؤ۔ وہ گئے اور ان سے سوال کیا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تک وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے اس کے لئے حلال نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ بائنہ ہوگئی۔ جبکہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بھی انہی حضرات کی متابعت کو نقل کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19136
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19136، ترقيم محمد عوامة 18446)
حدیث نمبر: 19137
١٩١٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك عن سالم عن سعيد في البتة: إن نوى واحدة فواحدة، وإن نوى (ثلاثًا) (١) (فثلاث) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید رحمہ اللہ طلاقِ قطعی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر ایک کی نیت کی تو ایک طلاق اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19137
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19137، ترقيم محمد عوامة 18447)
حدیث نمبر: 19138
١٩١٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن إبراهيم قال: إن نوى طلاقًا فأدنى ما يكون من نيته في ذلك واحدة بائن، إن شاء وشاءت تزوجها وإن نوى (ثلاثًا) (١) فثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر طلاق کی نیت کی ہے تو اس کی نیت کا کم از کم یعنی ایک طلاق بائنہ تو ہوجائے گی اگر چاہیں تو دوبارہ نکاح کرلیں اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19138
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19138، ترقيم محمد عوامة 18448)
حدیث نمبر: 19139
١٩١٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: (يسأل) (١) عن نيته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نیت کا پوچھا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19139
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19139، ترقيم محمد عوامة 18449)
حدیث نمبر: 19140
١٩١٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن وردان عن برد عن مكحول قال: هي ثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین طلاقیں ہوں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19140
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19140، ترقيم محمد عوامة 18450)
حدیث نمبر: 19141
١٩١٤١ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش عن (عبيد اللَّه) (١) بن عبيد عن مكحول والزهري قالا: ثلاث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ اور حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین طلاقیں ہوں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19141
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19141، ترقيم محمد عوامة 18451)
حدیث نمبر: 19142
١٩١٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد قال: قال أبو بكر: سألني عمر بن عبد العزيز عن البتة فقلت له: إن أبان بن عثمان كان يقول: هي واحدة فقال عمر: لو كان الطلاق ألفًا ما أبقت البتة منه شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھ سے طلاق قطعی کے بارے میں سوال کیا تو میں نے ان سے کہا کہ ابان بن عثمان فرمایا کرتے تھے کہ ایک طلاق ہوگی۔ حضرت عمر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر طلاقیں ایک ہزار بھی ہوں تو طلاق قطعی دینے سے ایک طلاق بھی باقی نہیں رہے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19142
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19142، ترقيم محمد عوامة 18452)
حدیث نمبر: 19143
١٩١٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش عن يحيى بن سعيد عن أبي بكر (١) بن عمرو بن حزم قال: قال عمر بن عبد العزيز: يا أبا بكر! البتة، ما يقول الناس فيها؟ فقلت له: كان أبان بن عثمان يجعلها واحدة فقال عمر: لو (كان) (٢) الطلاق ألفًا ما أبقت البتة منه شيئًا، من قال: البتة، فقد رمى بالغاية القصوى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھ سے طلاق قطعی کے بارے میں سوال کیا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں، میں نے ان سے کہا کہ ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک طلاق ہوگی۔ حضرت عمر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر طلاقیں ایک ہزار بھی ہوں تو طلاق قطعی دینے سے ایک طلاق بھی باقی نہیں رہے گی۔ جس نے قطعی کا لفظ کہا اس نے انتہاء کو چھو لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19143
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19143، ترقيم محمد عوامة 18453)
حدیث نمبر: 19144
١٩١٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن (سعيد) (١) عن قتادة أن زيد بن ثابت كان يقول: في البتة ثلاث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق قطعی تین طلاقیں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19144
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19144، ترقيم محمد عوامة 18454)