کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر ایک آدمی نے عورت کو اختیار دیا لیکن وہ خاموش رہی اور اس نے کوئی بات نہ کی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19120
١٩١٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن (عن) (١) زهير (عن جابر) (٢) عن عامر عن مسروق عن عبد اللَّه قال: سكوتها رضى بالزوج إذا خيّرها فسكتت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور وہ خاموش رہی تو خاموشی خاوند کے ساتھ رہنے کی رضامندی کی علامت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19120
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف جابر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19120، ترقيم محمد عوامة 18435)
حدیث نمبر: 19121
١٩١٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا (حميد) (١) عن حسن عن مغيرة عن إبراهيم قال: سكوتها رضى بالزوج.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور وہ خاموش رہی تو خاموشی خاوند کے ساتھ رہنے کی رضامندی کی علامت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19121
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19121، ترقيم محمد عوامة 18436)