کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19079
١٩٠٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن الشيباني عن الشعبي قال: قال عبد اللَّه: إذا خير الرجل امرأته فاختارت نفسها (فواحدة) (١) بائنة، وإن اختارت زوجها [فلا شيء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق بائنہ ہوگی۔ اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو کچھ نہیں ہوگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر اس نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو ایک طلاق بائنہ ہوگی اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو بھی ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حقدار ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19079
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19079، ترقيم محمد عوامة 18398)
حدیث نمبر: 19080
١٩٠٨٠ - (و) (١) قال علي: إن اختارت نفسها فواحدة بائنة وإن اختارت زوجها فواحدة] (٢) وهو أملك بها (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19080
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19080، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 19081
١٩٠٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن إسماعيل عن الشعبي عن مسروق قال: ما أبالي (خيرت) (١) امرأتي واحدة أو مائة أو ألفا بعد أن تختارني، ⦗١٨٣⦘ ولقد (أتيت) (٢) عائشة فسألتها عن ذلك فقالت: (قد) (٣) خيرنا رسول اللَّه ﷺ فاخترناه (أفكان) (٤) طلاقًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میری بیوی مجھے اختیار کرنے کے بعد ایک، سو یا ہزار طلاقیں اختیار کرلے۔ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا تھا اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا تھا تو کیا یہ طلاق ہوگئی ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19081
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٢٦٢)، ومسلم (١٤٧٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19081، ترقيم محمد عوامة 18399)
حدیث نمبر: 19082
١٩٠٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن مبارك عن يحيى (بن) (١) بشر قال: سمعت عكرمة يحدث أن أبا الدرداء أتي وهو بالشام، في رجل خير امرأته فاختارت زوجها قال: ليس بشيء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابودردائ رضی اللہ عنہ شام میں تھے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ ایک مرد نے اپنی بیوی کو اختیار دے دیا اور اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی یہی فرمایا کرتے تھے اور حضرت ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے بھی مدینہ میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19082
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19082، ترقيم محمد عوامة 18400)
حدیث نمبر: 19083
١٩٠٨٣ - (قال: وكان) (١) ابن عباس يفتي بذلك (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19083
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19083، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 19084
١٩٠٨٤ - وقضى (به) (١) أبان بن عثمان بالمدينة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19084
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19084، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 19085
١٩٠٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن إدريس عن موسى بن مسلم (١) عن مجاهد قال: قال علي: إذا خلع الرجل أمر امرأته من عنقه فهي واحدة، وإن اختارته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے اپنی بیوی کا معاملہ اپنی گردن سے اتار دیا تو ایک طلاق ہوگئی خواہ عورت اپنے خاوند کو ہی اختیار کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19085
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19085، ترقيم محمد عوامة 18401)
حدیث نمبر: 19086
١٩٠٨٦ - حدثنا أبو بكر (قال: نا وكيع) (١) عن جرير بن حازم (٢) عن عيسى بن عاصم عن (زاذان) (٣) قال: كنا جلوسًا عند علي فسئل عن الخيار فقال: سألني عنها أمير المؤمنين عمر فقلت: إن اختارت نفسها [فواحدة (بائنة) (٤) وإن اختارت زوجها] (٥) فواحدة وهو أحق بها فقال: ليس كما قلت: إن اختارت نفسها فواحدة وإن اختارت زوجها فلا شيء وهو أحقّ بها فلم أجد بدا من متابعة أمير المؤمنين، فلما وليت وأتيت (في) (٦) (الفروج) (٧) رجعت إلى ما كنت أعرف، فقيل له: رأيكما في الجماعة أحب إلينا من رأيك في الفرقة، فضحك علي (فقال) (٨): أما إنه أرسل إلى زيد بن ثابت فسأله فقال: إن اختارت نفسها فثلاث، وإن اختارت زوجها فواحدة بائنة (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاذان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ان سے اختیار کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو ایک طلاق بائنہ ہے اور اگر اپنے خاوند کو اختیار کرلے تو ایک طلاق ہوگی، اور خاوند رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔ انہوں نے فرمایا کہ جو تم نے کہا ہے وہ درست نہیں، اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حقدار ہوگا، اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو کچھ لازم نہ ہوا اور وہ آدمی اس عورت کا زیادہ حق دار ہوگا۔ امیر المومنین کے یہ فرمادینے کے بعد میرے پاس ان کی اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب مجھے امیر بنایا گیا اور میرے پاس شادی کے مسائل لائے جانے لگے تو میں نے دوبارہ سابقہ رائے کو اختیار کرلیا۔ ان سے کہا گیا کہ جماعت کے سامنے آپ کی جو رائے ہے وہ ہمارے نزدیک آپ کی تنہائی والی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ مسکرا دیئے اور فرمایا کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور اس مسئلے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو تین طلاقیں ہوگئیں اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19086
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19086، ترقيم محمد عوامة 18402)
حدیث نمبر: 19087
١٩٠٨٧ - [حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يقول لامرأته: اختاري (قال) (١): إن اختارت نفسها فواحدة وإن اختارت زوجها فلا شيء] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے آپ کو اختیار کرلے ، پس اگر اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق پڑگئی اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو کچھ نہ ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19087
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19087، ترقيم محمد عوامة 18403)
حدیث نمبر: 19088
١٩٠٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن أشعث عن الحكم عن (عبد الرحمن) (١) بن أبي ليلى عن زيد بن ثابت قال: إن اختارت نفسها فثلاث وإن اختارت زوجها فواحدة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو تین طلاقیں ہوئیں اور اگر اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق ہوئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19088
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال أشعث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19088، ترقيم محمد عوامة 18404)
حدیث نمبر: 19089
١٩٠٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن سفيان عن أبي الزناد عن خارجة بن زيد وأبان بن عثمان عن زيد بن ثابت قال: إن اختارت نفسها فواحدة وهو أملك بها، وإن اختارت زوجها فلا شيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق ہوئی اور آدمی رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو کوئی چیز لازم نہ ہوئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19089
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19089، ترقيم محمد عوامة 18405)
حدیث نمبر: 19090
١٩٠٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق عن عائشة قالت: خيرنا رسول اللَّه ﷺ فاخترناه فلم (يعدها) (١) علينا شيئًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار فرمایا، آپ نے اس اختیار کو طلاق شمار نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19090
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٢٦٢)، ومسلم (١٤٧٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19090، ترقيم محمد عوامة 18406)
حدیث نمبر: 19091
١٩٠٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن إسماعيل بن أبي خالد عن أبي إسحاق قال: سألت أبا جعفر عن (الرجل) (١) يخير امرأته فتختار زوجها قال: ليس بشيء قلت: فإن اختارت نفسها؟ قال: تطليقة وهو أحق برجعتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوجعفر رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور وہ اپنے خاوند کو اختیار کرلے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں۔ میں نے کہا کہ اگر عورت اپنے نفس کو اختیار کرلے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حق دا رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19091
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19091، ترقيم محمد عوامة 18407)
حدیث نمبر: 19092
١٩٠٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن يحيى بن (سعيد) (١) عن سعيد بن المسيب في رجل خيّر امرأته فردت ذلك إليه ولم (تقض) (٢) فيه شيئًا، ⦗١٨٦⦘ (قال: ليس ذلك بشيء) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور عورت نے اختیار مرد کو واپس دے دیا اور اس میں کوئی فیصلہ نہ کیا تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19092
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19092، ترقيم محمد عوامة 18408)
حدیث نمبر: 19093
١٩٠٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن ليث عن طاوس عن ابن عباس أنه كان يقول في الخيار مثل قول عمر وعبد اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور عورت نے اختیار مرد کو واپس دے دیا اور اس میں کوئی فیصلہ نہ کیا تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19093
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19093، ترقيم محمد عوامة 18409)