کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19074
١٩٠٧٤ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): (نا) (٢) جرير بن عبد الحميد عن منصور عن ابن عباس في رجل قال لامرأته: أمرك بيدك، فقالت: أنت طالق ثلاثًا، فقال ابن ⦗١٨١⦘ عباس: خطّأ اللَّه (نوءها) (٣) [لو قالت: أنا طالق ثلاثًا لكان كما قالت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے اس کی زبان پر غلط بات کو جاری کردیا، اگر وہ یہ کہتی کہ مجھے تین طلاقیں ہیں تو پھر طلاق ہوتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19074
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19074، ترقيم محمد عوامة 18393)
حدیث نمبر: 19075
١٩٠٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن منصور قال: ذكرته لإبراهيم فقال: سواء هي واحدة، وهو أملك بها إن قالت: طلقتك أو طلقت نفسي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ خواہ یہ کہے کہ میں نے تجھے طلاق دی اور خواہ یہ کہے کہ میں نے خود کو طلاق دی۔ دونوں صورتوں میں ایک طلاق ہوجائے گی اور وہ خاوند رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19075
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19075، ترقيم محمد عوامة 18394)
حدیث نمبر: 19076
١٩٠٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا (١) ابن عيينة عن عمرو عن عطاء (٢) عن ابن عباس قال: خطّأ اللَّه نوءها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے اس کی زبان پر غلط بات کو جاری کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19076
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19076، ترقيم محمد عوامة 18395)
حدیث نمبر: 19077
١٩٠٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش عن حبيب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في رجل جعل أمر امرأته بيدها، فقالت: أنت طالق ثلاثًا قال: خطّأ اللَّه نوءها] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور پھر عورت نے کہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے اس کی زبان پر غلط بات کو جاری کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19077
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19077، ترقيم محمد عوامة 18396)
حدیث نمبر: 19078
١٩٠٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) محمد بن بشر العبدي قال: نا زكريا بن أبي زائدة قال: نا منصور حدثني إبراهيم عن علقمة قال: كنت (عند) (٢) عبد اللَّه بن مسعود فأتاه رجل فقال: يا أبا عبد الرحمن، إنه كان بيني وبين أهلي بعض ما يكون بين الناس، وإنها قالت: لو كان ما بيدك من الأمر بيدي لعلمت ما (أصنع؟) (٣) ⦗١٨٢⦘ فقلت لها: هي بيدك، قالت: فإني قد طلقتك ثلاثًا، (قال) (٤) عبد اللَّه: هي تطليقة واحدة وأنت أحق بها، قال: فذكرت ذلك لعمر (قال) (٥) فقال: لو قلت غير ذلك (لرأيت) (٦) أنك لم تصب (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن ! میرے اور میری بیوی کے درمیان کچھ جھگڑا ہوا، اس نے مجھے کہا کہ اگر تم اپنا معاملہ میرے ہاتھ میں دے دو تو تم دیکھنا کہ میں کیا کرتی ہں و ؟ میں نے کہا کہ وہ تیرے ہاتھ ہے، پھر اس نے خود کو تین طلاقیں دے دیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک طلاق ہوئی، اور تم اس سے رجوع کرنے کے زیادہ حقدار ہو۔ وہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اس کا تذکرہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تم اس کے علاوہ کوئی اور بات کرتے تو میں سمجھتا کہ تم نے صحیح بات نہیں کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19078
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19078، ترقيم محمد عوامة 18397)