کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے اور وہ خود کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19059
١٩٠٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن مسروق قال: جاء رجل إلى عمر فقال: إني جعلت أمر امرأتي بيدها، فطلقت ⦗١٧٧⦘ نفسها ثلاثًا، فقال عمر لعبد اللَّه: ما تقول؟ فقال عبد اللَّه: أراها واحدة وهو أملك بها، فقال عمر: (و) (١) أنا أيضا أرى ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے سپرد کردیا اور اس نے خود کو تین طلاقیں دے دیں، اب کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا میرے خیال میں ایک طلاق ہوئی، اور آدمی بیوی سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری بھی رائے یہی ہے۔
حدیث نمبر: 19060
١٩٠٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا (حفص) (١) بن غياث عن جعفر عن أبيه (عن) (٢) أبان بن عثمان عن زيد بن ثابت أنه قال في رجل قال لامرأته: إن (جزت) (٣) (عتبة) (٤) هذا الباب، فأمرك بيدك (فجازت) (٥)، فطلقت نفسها طلاقا (كثيرًا) (٦) قال زيد: هي واحدة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم نے اس دروازے کی چوکھٹ عبور کی، تو تمہارا معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اس عورت نے چوکھٹ عبور کی اور پھر عورت نے خود کو کئی طلاقیں دے دیں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک طلاق ہوگی۔
حدیث نمبر: 19061
١٩٠٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب عن غيلان (بن) (١) جرير عن (أبي) (٢) الحلال العتكي أنه وفد إلى عثمان فقال قلت: (رجل) (٣) جعل أمر امرأته (بيدها) (٤) قال: (فأمرها بيدها) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حلال عتکی ایک وفد کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے ہاتھ میں دے دے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کا معاملہ اسی کے ہاتھ میں ہوگا۔
حدیث نمبر: 19062
١٩٠٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن أبي طلحة (١) شداد عن غيلان بن جرير عن أبي الحلال قال: سألت عثمان عن رجل جعل أمر امرأته بيدها قال: (القضاء ما قضت) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الحلال رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ اسی کے سپرد کردے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جو فیصلہ وہ کرے وہی نافذ ہوگا۔
حدیث نمبر: 19063
١٩٠٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا بن أبي زائدة وعلي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: القضاء ما قضت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں جو فیصلہ بیوی کرے وہی نافذ ہوگا۔
حدیث نمبر: 19064
١٩٠٦٤ - [حدثنا ابن أبي زائدة عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: القضاء ما قضت] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں جو فیصلہ بیوی کرے وہی نافذ ہوگا۔
حدیث نمبر: 19065
١٩٠٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن فضالة (ابن) (١) عبيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں جو فیصلہ بیوی کرے وہی نافذ ہوگا۔
حدیث نمبر: 19066
١٩٠٦٦ - وعن قتادة عن عبد ربه عن أبي عياض (قال) (١): القضاء ما قضت (٢).
حدیث نمبر: 19067
١٩٠٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن هشام عن قتادة عن (١) ابن المسيب قال: القضاء ما قضت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں جو فیصلہ بیوی کرے وہی نافذ ہوگا۔
حدیث نمبر: 19068
١٩٠٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن (مجالد) (١) عن الشعبي في رجل جعل أمر امرأته بيدها (فطلقت نفسها ثلاثًا قال: هي ثلاث) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے سپرد کردیا اور اس نے خود کو تین طلاقیں دے دیں تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
حدیث نمبر: 19069
١٩٠٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر في الرجل يجعل أمر امرأته بيدها قال: القضاء ما قضت، (فإن تناكرا حلف) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں جو فیصلہ بیوی کرے وہی نافذ ہوگا، اگر کوئی انکارکرے تو اس سے قسم لی جائے گی۔
حدیث نمبر: 19070
١٩٠٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن برد عن مكحول والزهري (قالا) (١): القضاء ما قضت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ اور حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اختیار دیئے جانے کی صورت میں جو فیصلہ بیوی کرے وہی نافذ ہوگا۔
حدیث نمبر: 19071
١٩٠٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة قال: قلت للحكم: قالت: قد طلقت نفسي ثلاثًا قال: قد بانت منه بثلاث، يعني: إذا جعل أمرها بيدها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ سے سوال کیا اگر آدمی بیوی کا معاملہ اس کے سپرد کردے اور عورت کہے کہ میں نے خود کو تین طلاقیں دے دیں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ تین طلاقوں کے ساتھ بائنہ ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 19072
١٩٠٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (عيينة) (١) عن منصور عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه أن رجلًا جعل أمر امرأته بيدها، فطلقت نفسها ثلاثًا قال: هي واحدة، ثم لقي عمر فقال: نعم ما رأيت (٢)!.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے سپرد کردیا اور اس نے خود کو تین طلاقیں دے دیں تو ایک طلاق واقع ہوگی۔ پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے بہترین رائے دی ہے۔
حدیث نمبر: 19073
١٩٠٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن أبي (علية) (١) عن (يونس) (٢) (قال) (٣): (حدثنا) (٤) إذ ذاك أن عمر بن عبد العزيز كتب في رجل من بني تميم (جعل) (٥) أمر امرأته بيدها قال: إن ردت الأمر عليه فلا شيء، وإن طلقت نفسها فهي واحدة وهو أحق بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بنو تمیم کے ایک آدمی کے بارے میں لکھا جس نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے سپرد کردیا تھا کہ معاملہ مرد کی طرف لوٹے گا اور اگر عورت نے خود کو طلاق دی تو ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حق دار ہے۔