کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ’’اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا‘‘ تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19033
١٩٠٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن في رجل قال لامرأته: الحقي بأهلك قال: نيته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک شخص اپنی بیوی سے کہا کہ ” اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا “ تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کی نیت کا اعتبار ہے۔
حدیث نمبر: 19034
١٩٠٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك (١) عن جابر عن عامر في الرجل يقول لامرأته: الحقي بأهلك قال: (ليس) (٢) بشيء، إلا أن ينوي طلاقا في غضب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ” اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا “ تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ کچھ نہیں، اگر غصے میں تھا اور طلاق کی نیت کی تو طلاق ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 19035
١٩٠٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود الطيالسي عن هشام عن قتادة عن عكرمة قال: إذا قال: الحقي بأهلك قال: هذه واحدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا تو ایک طلا ق ہوگئی۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اس کو کچھ بھی شمار نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 19036
١٩٠٣٦ - وقال قتادة: وما أعد هذا شيئًا.
حدیث نمبر: 19037
١٩٠٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن إدريس عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادا عن رجل قال لامرأته: اخرجي، الحقي بأهلك، ينوي الطلاق (قالا) (١): هي واحدة، وهو أحق برجعتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی سے کہا کہ نکل جا، اپنے گھر والوں سے مل جا اور اس نے طلاق کی نیت بھی کی ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک طلاق ہوگی اور وہ اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔