کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی کی دو بیویاں ہو، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھالہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی! تو نکلی؟ تجھے طلا ق ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19027
١٩٠٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن يونس عن الحسن في رجل له امرأتان نهى (إحداهما) (١) عن الخروج فخرجت التي لم تنه (فظن) (٢) أنها التي نهاها أن تخرج (فقال) (٣): فلانة خرجت، أنت طالق، قال: تطلق (التي) (٤) أراد ونوى.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہوں، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی ! تو نکلی ؟ تجھے طلا ق ہے۔ تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس کی نیت کی ہے اسے طلا ق ہوگی۔
حدیث نمبر: 19028
١٩٠٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: ⦗١٧١⦘ (تطلقان) (١) جميعًا، تطلق التي أراد بتسميته إياها، وتطلق هذه بقوله لها: أنت طالق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہوں، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی ! تو نکلی ؟ تجھے طلا ق ہے۔ تو اس صورت میں دونوں کو طلاق ہوجائے گی، جس کا نام لیا اسے اس کے نام کی وجہ سے اور دوسری کو یہ کہنے کی وجہ سے کہ تجھے طلاق ہے۔
حدیث نمبر: 19029
١٩٠٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه قال في رجل قال لامرأته: إن خرجت فأنت طالق، (فاستعارت) (١) امرأة ثيابها فلبستها فأبصرها زوجها حين خرجت من الباب فقال: قد فعلت فأنت طالق، قال: يقع طلاقه على امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو نکلی تجھے طلاق ہے۔ اس کے بعد کسی عورت نے اس کی بیوی کے کپڑے مانگے اور پہن کر باہر جانے لگی، اس کے خاوند نے دیکھ کر کہا کہ تو باہر نکل گئی۔ لہٰذا تجھے طلاق ہے تو یہ طلاق اس کی بیوی کو ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 19030
١٩٠٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عمر عن ابن (جريج) (١) عن عطاء قال: سمعته يقول: إن حلف رجل على امرأته أنها لا تخرج فخرجت امرأة له أخرى فقيل له: امرأتك فحسبها الأخرى فطلقها قال عطاء: ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو قسم دی کہ وہ باہر نہیں نکلے گی۔ لیکن اس کی کوئی دوسری بیوی باہر نکلی، اسے کسی نے کہا کہ وہ تیری بیوی ہے۔ وہ یہ سمجھا کہ شاید یہ وہ ہے جسے نکلنے سے منع کیا تھا اور اس نے اسے طلاق دے دی توطلاق نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 19031
١٩٠٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن يزيد عن أبي العلاء عن قتادة في رجل كانت له امرأتان، فخرجت (إحداهما) (١) قال: من هذه؟ (قيل) (٢): فلانة، قال: إنها طالق، وكانت التي لم تُسَمَّ قال: قد وقع الطلاق عليهما جميعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی کی دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک باہر نکلی اور اس نے سوال کیا کہ یہ کون ہے ؟ اسے بتایا گیا کہ فلانی ہے۔ اس نے کہا کہ اسے طلا ق ہے، حالانکہ جس کا نام لیا گیا یہ وہ نہیں تھی۔ تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ دونوں کو طلاق ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 19032
١٩٠٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك عن جابر عن عامر في رجل كانت له امرأتان أو مملوكتان، فدعا إحداهما فقال: أنت طالق، فأجابته الأخرى قال: تطلق التي سمى، وإن (قال) (١) (لعبده) (٢) فمثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی بیویاں یا دو باندیاں تھیں۔ اس نے ایک کو بلایا اور کہا کہ تجھے طلاق ہے۔ اسے دوسری نے جواب دیا تو اسے طلاق ہوگی جس کا اس نے نام لیا، اگر اپنے غلام سے کہا تب بھی یہی حکم ہے۔