کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر آدمی ان شاء اللہ کہہ کر طلاق دے لیکن اگر طلاق سے ابتداء کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18990
١٨٩٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: قال شريح: إذا بدأ بالطلاق قبل (المثنوية) (١)، وقع الطلاق والعتاق حنث أو لم يحنث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے طلاق یا عتاق کا تذکرہ کرکے ان شاء اللہ کہا تو طلاق اور عتاق واقع ہوجائیں گے، خواہ وہ قسم توڑ دے یا باقی رکھے۔ اور حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس نے قسم نہیں توڑی تو پھر واقع نہیں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 18991
١٨٩٩١ - وقال سعيد بن (جبير) (١): إذا لم يحنث لم يقع (عليه) (٢).
حدیث نمبر: 18992
١٨٩٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن يونس عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا مقدم اور مؤخر کرنا ایک جیسا ہے، جب اسے کلام کے ساتھ ملا کرلائے۔
حدیث نمبر: 18993
١٨٩٩٣ - وإسماعيل بن سالم عن الشعبي قالا: إذا قدم الطلاق أو (أخره) (١) فهو سواء، إذا وصله بكلامه.
حدیث نمبر: 18994
١٨٩٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عباد) (١) بن العوام عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن قالا: له ثنياه، قدم الطلاق أو أخره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کو مقدم کرے یا مؤخر اس کا ان شاء اللہ کہنا باقی رہے گا۔
حدیث نمبر: 18995
١٨٩٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في الاستثناء في الطلاق والعتق قال: له ثنياه، قدم الطلاق أو أخره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ طلاق اور عتاق کے استثناء کے بارے میں فرماتے ہیں کہ طلاق کو مقدم کرے یا مؤخر اس کا ان شاء اللہ کہنا باقی رہے گا۔
حدیث نمبر: 18996
١٨٩٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن شريح قال: إذا بدأ بالطلاق وقع، حنث أو لم يحنث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب طلاق سے ابتداء کرے تو واقع ہوجائے گی حانث ہو یا نہ ہو اور ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ شریح نہیں جانتے۔
حدیث نمبر: 18997
١٨٩٩٧ - وكان (إبراهيم يقول) (١): وما يدري شريح!.
حدیث نمبر: 18998
١٨٩٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن (سعيد) (١) الزبيدي قال: أتيت امرأتي طروقًا فقالت لي: ما جئت بهذه (الساعة) (٢) إلا (ولك) (٣) (امرأة) (٤) غيري فقلت: كل امرأة لي فهي طالق ثلاثًا غيرك، فسألت إبراهيم (فقال) (٥): ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید زبیدی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کو اپنی بیوی کے پاس بہت دیر سے آیا تو وہ مجھے کہنے لگی تم میرے پاس اس وقت صرف اس لئے آئے ہو کہ تمہاری کوئی اور بیوی بھی ہے، میں نے کہا کہ اگر میری کوئی اور بیوی ہو تو اس کو طلاق ہے، میں نے اس بارے میں ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس جملے میں کوئی حرج نہیں۔