کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ تم میں سے ایک کو طلاق ہے ، کسی کا نام نہ لے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18982
١٨٩٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن المبارك عن معمر عن حماد (١) قال: سألته عن رجل قال: (امرأته) (٢) طالق، وله أربع نسوة قال: يضع يده على أيتهن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی کی چار بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ اس کی ایک بیوی کو طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ جس پرچا ہے ہاتھ رکھ لے۔ حضرت معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 18983
١٨٩٨٣ - قال معمر: وكان الحسن يقول ذلك.
حدیث نمبر: 18984
١٨٩٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن عبد اللَّه (بن) (١) حميد عن أبي جعفر أن عليًا أقرع بينهن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی آدمی کے ایسا کہنے کی صورت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قرعہ اندازی کرائی تھی۔
حدیث نمبر: 18985
١٨٩٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس نے کسی ایک کا نام لیا تو اسی کو طلاق ہوگی اور اگر نام نہ لیا تو سب کو طلاق ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 18986
١٨٩٨٦ - (و) (١) عن رجل عن الشعبي (قالا) (٢): إن كان سمى شيئًا فهو ما سمى وإن لم يكن سمى منهن شيئًا دخل عليهن الطلاق.
حدیث نمبر: 18987
١٨٩٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد أن عريفًا لبني سعد سأل (الحسن) (١) وكان السلطان (استحلفه) (٢) فقال: لك ما نويت.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے جب یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ آدمی کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
حدیث نمبر: 18988
١٨٩٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن عمر بن عامر عن حماد عن إبراهيم في رجل قال: امرأته طالق، (وله) (١) ثلاث نسوة (فقال) (٢): إن كان نوى منهن شيئًا فهي التي نوى، وإن لم يكن نوى منهن شيئًا (فليختر) (٣) أيتهن شاء وكذلك (الإيلاء) (٤) (و) (٥) الظهار.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص کی زیادہ بیویاں ہوں اور وہ کہے کہ اس کی ایک بیوی کی تین طلاق تو اگر کسی کی نیت کی تھی تو اسے طلاق ہوگی اور اگر کسی کی نیت نہیں کی تو ان میں سے جس کو چاہے اختیار کرلے۔ ایلاء اور ظہار کا بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 18989
١٨٩٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا روح بن عبادة عن محمد بن عبد الرحمن (العدني) (١) قال: سئل أبو جعفر عن رجل له أربع نسوة (فاطلعت) (٢) منهن امرأة فقال: أنت طالق البتة، (فدخل) (٣) عليهن (وإذا) (٤) كل واحدة منهن تقول: هي هذه وتقول: هذه هي، فلم يعرفها، قال أبو جعفر: بِنَّ منه جميعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کی چار بیویاں تھیں، ان میں سے ایک بیوی نے اسے جھانکا تو اس نے کہا کہ تجھے قطعی طلاق ہے، جب وہ ان کے پاس آیا تو ہر ایک کہنے لگی کہ وہ دوسری تھی، وہ اسے پہچان بھی نہ سکا کہ وہ کون سی تھی تو کیا حکم ہے ؟ حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سب اس سے جدا ہوجائیں گی۔