کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی نابالغ بچی کو طلاق دی گئی تو وہ عدت کیسے گزارے گی؟
حدیث نمبر: 18972
١٨٩٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم (١) عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی نابالغ بچی کو طلاق دی گئی تو وہ عدت کیسے گزارے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ مہینوں کے حساب سے عدت گزارے گی، اگر مہینے ختم ہونے سے پہلے اسے حیض آجائے تو وہ عدت کو حیض کے اعتبار سے دوبارہ شروع کرے گی، اگر مہینے پورے ہونے کے بعد اسے حیض آیا تو اس کی عدت مکمل ہوگئی۔
حدیث نمبر: 18973
١٨٩٧٣ - (و) (١) عن محمد بن سالم عن الشعبي.
حدیث نمبر: 18974
١٨٩٧٤ - وعن يونس عن الحسن في الجارية إذا طلقت ولم تبلغ المحيض قالوا: تعتد بالشهور، فإن حاضت من قبل أن تمضي الشهور استأنفت العدة بالحيض، فإن حاضت بعد ما مضت الشهور فقد انقضت عدتها.
حدیث نمبر: 18975
١٨٩٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو (الأحوص) (١) عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل يتزوج الجارية فيطلقها قبل أن تبلغ (المحيض) (٢)، قال: تعتد ثلاث أشهر فإن هي حاضت قبل أن (تنقضي) (٣) الثلاثة (الأشهر) (٤) انهدمت عدة الشهور (واستأنفت) (٥) عدة (٦) الحيض.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے نابالغ بچی کو طلاق دے دی تو وہ تین مہینے عدت گذارے گی، اگر تین مہینے پورے ہونے سے پہلے اسے حیض آگیا تو اس کی عدت منہدم ہوگئی اب وہ نئے سرے سے حیض کے اعتبار سے عدت پوری کرے۔
حدیث نمبر: 18976
١٨٩٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن (حبيب) (١) عن عمرو قال: سئل جابر بن زيد عن جارية طلقت بعد ما دخل بها زوجها (و) (٢) هي (٣) ⦗١٥٩⦘ لا تحيض فاعتدت شهرين وخمسة وعشرين ليلة، ثم إنها حاضت قال: تعتد بعد ذلك ثلاثة قروء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک نابالغ لڑکی کو اس کے خاوند نے دخول کے بعد طلاق دے دی، اس نے دو مہینے پچیس دن کی عدت گزاری تھی کہ اسے حیض آگیا، اب وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اب وہ تین حیض عدت کے گزارے، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 18977
١٨٩٧٧ - (و) (١) كذلك قال: ابن عباس (٢).