حدیث نمبر: 18895
١٨٨٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس قال: لا يجوز طلاق (الصبي) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بچے کی طلاق نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 18896
١٨٨٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل عن الشعبي قال: لا يجوز طلاق (الصبي) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بچے کی طلاق نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 18897
١٨٨٩٧ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: إذا عقل الصبي الصلاة والصوم فطلاقه جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بچے کو نماز اور روزے کی تمیز ہوجائے تو اس کی طلاق درست ہے اور حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بالغ ہونے تک اس کی طلاق نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 18898
١٨٨٩٨ - قال: (وقال) (١): الحسن: لا يجوز طلاقه حتى (يحتلم) (٢).
حدیث نمبر: 18899
١٨٨٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن همام عن قتادة عن إسماعيل بن عمران (العنزي) (١) قال: طلقت وأنا غلام لم أحتلم، فسألت سعيد بن المسيب فقال: إذا حفظت الصلاة وصمت رمضان فقد جاز طلاقك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن عنزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک نابالغ بچہ تھا، میں نے طلاق دے دی اور اس بارے میں حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تم نے نماز یاد کرلی ہے اور رمضان کے روزے رکھے ہیں تو تمہاری طلاق جائز ہے۔
حدیث نمبر: 18900
١٨٩٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن علي بن مالك قال: سألت الشعبي غلام طلق ثلاثًا؟ قال: ما أراه (إذا) (١) (عقل) (٢) أن الثلاث (تبين) (٣) أن يجتمعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی بچہ تین طلاقیں دے دے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر اسے اس بات کی سمجھ نہ ہوتی کہ تین طلاقوں سے جدائی ہوجاتی ہے تو میں اسے کچھ نہ سمجھتا۔
حدیث نمبر: 18901
١٨٩٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عمن سمع عليًا يقول: اكتموا الصبيان النكاح (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بچوں کے نکاح کو پوشیدہ رکھو۔
حدیث نمبر: 18902
١٨٩٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن أشعث عن أبي إسحاق عن عاصم عن علي بنحو حديث وكيع (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 18903
١٨٩٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن جويبر عن الضحاك قال: اكتموا الصبيان النكاح، (فكل) (١) (طلاق) (٢) جائز إلا طلاق المبرسم والمعتوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بچوں کے نکاح کو پوشیدہ رکھو۔ اور فرماتے ہیں کہ ہر طلاق جائز ہے سوائے معتوہ اور ایسے شخص کی طلاق جسے برسم ہو یعنی ایسی بیماری میں جس میں انسان الٹی سیدھی باتیں کرنے لگتا ہے۔
حدیث نمبر: 18904
١٨٩٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (عياش) (١) عن مطرف عن الشعبي قال: ليس عتق الصبي ولا نكاحه، ولا شيء من أمره بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بچے کی آزادی اور نکاح اور کسی دوسری چیز کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18905
١٨٩٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن (سعيد) (١) عن سفيان عن القعقاع قال: سألت إبراهيم عن طلاق الصبي قال: النساء كثير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قعقاع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے بچے کی طلاق کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ عورتیں بہت ہیں۔
حدیث نمبر: 18906
١٨٩٠٦ - [حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا سفيان عن القعقاع عن إبراهيم في طلاق الصبي قال: ليس بشيء، والنساء كثير] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قعقاع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے بچے کی طلاق کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں اور عورتیں بہت ہیں۔
حدیث نمبر: 18907
١٨٩٠٧ - حدثنا (أبو بكر قاله: نا وكيع) (١) قال: نا سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يزوجونهم وهم صغار، ويكتمونهم النكاح مخافة أن يقع الطلاق على ألسنتهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسلاف بچوں کی شادیاں کرادیا کرتے تھے اور نکاح کو ان سے پوشیدہ رکھتے تھے کہ کہیں ان کی زبان پر طلاق جاری نہ ہوجائے۔ حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر طلاق کا لفظ ان کی زبان پر آبھی جاتا تو اسے کچھ نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 18908
١٨٩٠٨ - قال سفيان: فإذا وقع لم (يروه) (١) شيئًا.
حدیث نمبر: 18909
١٨٩٠٩ - [حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود (الطيالسي) (١) عن شعبة عن مصعب عن الشعبي في طلاق الصبي: ليس بشيء] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بچے کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں۔
حدیث نمبر: 18910
١٨٩١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن طلاق الصبي (فقالا) (١): لا يجوز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ سے بچے کی طلاق کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ درست نہیں۔