کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کیا مجنون او رمعتوہ کا ولی ان کی طرف سے طلاق دے سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 18889
١٨٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن حبيب عن عمرو بن شعيب قال: وجدنا في كتاب عبد اللَّه بن عمرو (١) (عن عمرو) (٢): إذا عبث (المجنون) (٣) بامرأته طلق عليه وليه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ کی کتاب میں تھا کہ جب مجنون اپنی بیوی کو پریشان کرتا ہو تو اس کا ولی عورت کو طلاق دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 18890
١٨٨٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا الضحاك بن (مخلد) (١) عن ابن جريج (٢) عن عطاء قال: يطلق ولي الموسوس، ولينظر عسى أن يفيق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجنون کا ولی اس کی طرف سے طلاق دے سکتا ہے لیکن وہ اس کے ٹھیک ہونے کا انتظار کرے۔
حدیث نمبر: 18891
١٨٨٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان (عن سعيد عن قتادة) (١) عن سعيد بن المسيب قال: طلاق المعتوه المغلوب على عقله ليس بشيء، طلاقه إلى وليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مغلوب العقل اور معتوہ کی طلاق درست نہیں، اس کی طرف سے اس کا ولی طلاق دے گا۔
حدیث نمبر: 18892
١٨٨٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن (أيوب) (١) قال: كتبت إلى أبي قلابة في امرأة زوجها مجنون لا (ترجو) (٢) أن (يبرأ) (٣) يطلق عنه وليه؟ فكتب إلي (لا، إنها) (٤) امرأة ابتلاها اللَّه بالبلاء فلتصبر.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ ایسے مجنون کی بیوی جس کے ٹھیک ہونے کی کوئی امید نہ ہو تو کیا اس کی طرف سے ولی عورت کو طلاق دے سکتا ہے ؟ انہوں نے مجھے جواب میں لکھا کہ وہ طلاق نہیں دے سکتا، اس عورت کو اللہ نے آزمائش میں ڈالا ہے اسے چاہئے کہ صبر کرے۔
حدیث نمبر: 18893
١٨٨٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) عبد الأعلى عن معصر (عن الزهري) (٢) قال: لا يجوز عليه طلاق وليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجنون وغیرہ کے ولی کی طلاق درست نہیں۔