حدیث نمبر: 5815
٥٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا وكيع قال حدثنا عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن يعلى الطائفي عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي ﷺ كبر في عيد ثنتي عشرة تكبيرة (سبعا) (١) في (الأولى) (٢) وخمسا في (الآخرة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی نماز میں بارہ تکبیرات کہیں، سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔
حدیث نمبر: 5816
٥٨١٦ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثنا عبد الرحمن بن ثوبان عن أبيه عن مكحول، قال: حدثني أبو عائشة وكان جليسا لأبي هريرة قال: شهدت سعيد بن العاص ودعا (أبا) (١) موسى الأشعري وحذيفة (فسألهما) (٢) عن التكبير في العيدين فقال أبو موسى: كان رسول اللَّه ﷺ يكبّر في (العيد) (٣) كما يكبّر على الجنازة قال: وصدقه حذيفة، قال: فقال أبو موسى (٤): وكذلك كنت أصلّي بأهل البصرة وأنا ⦗٢٢٤⦘ عليها، قال أبو عائشة: وأنا حاضر ذلك فما (نسيت) (٥) قوله أربعا كالتكبير على الجنازة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ابو عائشہ رضی اللہ عنہا (جو کہ حضرت ابوہریرہ کے ہم مجلس تھے) فرماتے ہیں کہ میں سعید بن عاص کے پاس تھا۔ انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے عیدین کی تکبیرات کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدین میں جنازے کی طرح چار تکبیرات کہا کرتے تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تصدیق کی۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا کہ جب میں بصرہ کا گورنر تھا تو وہاں بھی اسی طرح نماز عید پڑھاتا تھا۔ ابو عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ میں اس مجلس میں موجود تھا اور مجھے حضرت ابو موسیٰ کا یہ جملہ اچھی طرح یاد ہے : جنازے کی طرح چار تکبیرات۔
حدیث نمبر: 5817
٥٨١٧ - حدثنا هشيم عن ابن عون عن مكحول قال: أخبرني من شهد سعيد بن العاص أرسل إلى أربعة نفر من أصحاب الشجرة فسألهم عن التكبير في العيد فقالوا: ثمان تكبيرات قال: فذكرت ذلك لابن سيرين فقال: صدق ولكنه أغفل تكبيرة فاتحة الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ سعید بن عاص کو دیکھنے والے ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ ایک مرتبہ سعید بن عاص نے ان صحابہ کرام میں سے چار کو بلایا جنہوں نے درخت کے نیچے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ سعید بن عاص نے ان سے عید کی تکبیرات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آٹھ تکبیریں ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر ابن سیرین سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے ٹھیک کہا البتہ وہ تکبیر تحریمہ کو چھوڑ گئے۔
حدیث نمبر: 5818
٥٨١٨ - حدثنا هشيم قال أخبرنا (١) مجالد عن الشعبي عن مسروق قال: كان عبد اللَّه يعلمنا التكبير في العيدين تسع تكبيرات خمس في الأولى وأربع في الآخرة ويوالي بين القراءتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ہمیں عیدین کی نمازوں کے لئے نو تکبیرات سکھاتے تھے، پانچ پہلی رکعت میں اور چار دوسری رکعت میں۔ وہ دونوں کی قرائتوں کو ایک دوسرے سے ملایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5819
٥٨١٩ - حدثنا وكيع عن محل عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ عید الفطر اور عید الاضحی کے لئے نو نو تکبیرات کہتے تھے، پانچ پہلی رکعت میں اور چار دوسری میں اور دونوں کی قرائتوں کو ملایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5820
٥٨٢٠ - (و) (١) عن إسماعيل عن الشعبي عن عبد اللَّه أنه كان يكبر في الفطر والأضحى تسعا تسعا خمسا في الأولى وأربعا في الآخرة ويوالي بين القراءتين (٢).
حدیث نمبر: 5821
٥٨٢١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن عبد اللَّه بن أبي موسى (١).
حدیث نمبر: 5822
٥٨٢٢ - وعن حماد عن إبراهيم أن أميرا من أمراء الكوفة قال: سفيان أحدهما: سعيد بن العاص وقال الآخر: الوليد بن عقبة بعث إلى عبد اللَّه بن مسعود وحذيفة بن اليمان وعبد اللَّه بن قيس فقال: إن هذا العيد قد حضر فما ترون؟ فأسندوا أمرهم إلى عبد اللَّه فقال: (يكبر) (١) تسعا: تكبيرة (يفتتح) (٢) بها الصلاة ثم (يكبر) (٣) (ثلاثًا) (٤)، ثم (يقرأ) (٥) سورة ثم (يكبر) (٦) ثم (يركع) (٧)، ثم يقوم فيقرأ سورة ثم يكبر أربعا (يركع) (٨) بأحداهن (٩).
حدیث نمبر: 5823
٥٨٢٣ - حدثنا وكيع قال حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن الحارث (١) عن علي أنه كان يكبر في الفطر إحدى عشرة (٢): ستا في الأولى وخمسا في الآخرة يبدأ ⦗٢٢٦⦘ بالقراءة في الركعتين، وخمسًا في الأضحى: ثلاثًا في الأولى وثنتين في الآخرة يبدأ بالقراءة في الركعتين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ عید الفطر کی نماز میں گیارہ تکبیریں کہتے تھے۔ چھ پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔ دونوں رکعتوں کو قرائت سے شروع فرماتے ۔ آپ عید الاضحی میں پانچ تکبیرات کہا کرتے تھے، تین پہلی رکعت میں اور دو آخری رکعت میں۔ دونوں رکعتوں کو قرائت سے شروع کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5824
٥٨٢٤ - حدثنا هشيم عن حجاج وعبد الملك عن عطاء عن ابن عباس أنه كان يكبر ثلاث عشرة تكبيرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تیرہ مرتبہ تکبیر کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5825
٥٨٢٥ - حدثنا وكيع عن ابن جريج عن عطاء (أن) (١) ابن عباس كبر في عيد ثلاث عشرة: سبعا في الأولى، وستا في الآخرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضفرت عطاء فرماتے ہں م کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عید کی نماز میں تیرہ مرتبہ تکبیرات کہیں، سات مرتبہ پہلی رکعت میں اور چھ مرتبہ دوسری رکعت میں۔
حدیث نمبر: 5826
٥٨٢٦ - حدثنا ابن إدريس عن عبيد اللَّه عن نافع عن أبي هريرة قال: كان يكبر في الأولى سبع تكبيرات وفي الثانية خمسا كلهن قبل القراءة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات کہیں، سب کی سب قرائت سے پہلے تھیں۔
حدیث نمبر: 5827
٥٨٢٧ - حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس أنه كان يكبر في العيد في الأولى سبع تكبيرات بتكبيرة الافتتاح وفي الآخرة ستا بتكبيرة الركعة كلهن قبل القراءة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عید کی نماز کی پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ سمیت سات تکبیرات اور دوسری رکعت میں رکوع کی تکبیر سمیت چھ تکبیرات کہیں، یہ سب زائد تکبیرات قرائت سے پہلے تھیں۔
حدیث نمبر: 5828
٥٨٢٨ - حدثنا هشيم عن أشعث عن كردوس عن ابن عباس قال: لما كان ليلة العيد أرسل الوليد بن عقبة إلى ابن مسعود وأبي مسعود وحذيفة والأشعري ⦗٢٢٧⦘ فقال لهم: إن العيد غدا فكيف التكبير؟ فقال عبد اللَّه: [تقوم فتكبر أربع تكبيرات وتقرأ بفاتحة الكتاب وسورة من المفصل ليس من طوالها ولا من قصارها ثم تركع، ثم تقوم فتقرأ فإذا فرغت من القراءة كبرت أربع تكبيرات (ثم) (١) تركع] (٢) بالرابعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ولید بن عقبہ نے عید کی رات حضرت ابن مسعود، حضرت ابو مسعود، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کو بلایا اور ان سے کہا کہ کل عید ہے، تکبیرات کیسے کہنی ہیں ؟ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ تم قیام میں چار تکبیرات کہو، پھر سورت فاتحہ پڑھو اور مفصل میں سے کوئی سورت پڑھو جو نہ بہت لمبی ہو نہ بہت مختصر، پھر رکوع کرو، پھر قیام میں قرائت کرو، جب قرائت سے فارغ ہو جاؤ تو چار تکبیریں کہو، چوتھی تکبیر پر رکوع کرو۔
حدیث نمبر: 5829
٥٨٢٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن (المسعودي) (١) عن (معبد) (٢) بن خالد عن كردوس قال: قدم سعيد بن العاص في ذي الحجة فأرسل إلى عبد اللَّه وحذيفة وأبي مسعود الأنصاري وأبي موسى الأشعري فسألهم عن التكبير (في العيد) (٣) فأسندوا أمرهم إلى عبد اللَّه فقال عبد اللَّه: [(يقوم) (٤) (فيكبر) (٥) ثم (يكبر) (٦) ثم يكبر (ثم يكبر) (٧) فيقرأ ثم (يكبر) (٨) و (يركع) (٩)] (١٠) ويقوم فيقرأ ثم (يكبر) (١١) ثم ⦗٢٢٨⦘ (يكبر) (١٢) ثم (يكبر) (١٣) (ثم يكبر) (١٤) الرابعة ثم يركع (١٥) (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
کردوس فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن عاص نے ماہ ذوالحجہ کے شروع میں حضرت عبد اللہ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو مسعود انصاری اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کو بلایا اور ان سے عید کی تکبیرات کے بارے میں سوال کیا، سب نے یہ معاملہ حضرت عبداللہ کے سپرد کردیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم حالت قیام میں تکبیر کہو، پھر تکبیر کہو، پھر تکبیر کہو، پھر تکبیر کہہ کر قرائت کرو، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرو، پھر اگلی رکعت مں ا اٹھ کر قرائت کرو، پھر تکبیر کہو، پھر تکبیر کہو، پھر تکبیر کہو، پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاؤ۔
حدیث نمبر: 5830
٥٨٣٠ - حدثنا (أبو) (١) أسامة عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن جابر بن عبد اللَّه وسعيد (٢) بن المسيب قالا: تسع تكبيرات ويوالي بين القراءتين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ کل نو تکبیرات ہیں۔ نیز دونوں رکعتوں کی قرائت کو ملا کر نماز ادا ہوگی۔
حدیث نمبر: 5831
٥٨٣١ - حدثنا هشيم (قال) (١) أخبرنا خالد عن عبد اللَّه بن الحارث (قال) (٢): صلى بنا ابن عباس يوم عيد (فكبر) (٣) تسع تكبيرات: خمسا في الأولى وأربعا في الآخرة (ووالى) (٤) بين القراءتين (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں عید کی نماز نو تکبیرات کے ساتھ پڑھائی، پانچ تکبیریں پہلی رکعت میں اور چار دوسری رکعت میں، نیز دونوں قرائتوں کو ملایا۔
حدیث نمبر: 5832
٥٨٣٢ - حدثنا هشيم قال (أنا) (١) داود عن الشعبي قال: أرسل زياد إلى مسروق إنا (يشغلنا) (٢) أشغال فكيف التكبير في العيدين؟ قال: تسع تكبيرات قال: ⦗٢٢٩⦘ خمسًا في الأولى وأربعا في الآخرة (ووال) (٣) بين القراءتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ زیاد نے مسروق کو پیغام دے کر بلوایا اور کہا کہ ہمارے بہت سے کام رہتے ہیں، ذرا عید کی تکبیرات کے بارے میں بتا دیجئے۔ فرمایا کہ عید میں نو تکبیرات ہیں، پانچ پہلی رکعت میں اور چار دوسری رکعت میں۔ دونوں کی قرائتوں کو ملاؤ یعنی دونوں قرائتوں کے درمیان کوئی زائد تکبیر نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5833
٥٨٣٣ - حدثنا غندر وابن مهدي عن شعبة عن منصور عن إبراهيم عن الأسود ومسروق أنهما كانا يكبران في العيد تسع (١) [تكبيرات.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود اور حضرت مسروق عید کی نماز میں نو تکبیرات کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5834
٥٨٣٤ - حدثنا يحيى بن سعيد عن أشعث عن محمد بن سيرين عن أنس أنه كان يكبّر في العيد تسعا] (١) فذكر مثل حديث عبد اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت انس عید میں نو تکبیرات کہا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے حضرت عبد اللہ جیسی حدیث نقل کی۔
حدیث نمبر: 5835
٥٨٣٥ - حدثنا إسحاق الأزرق عن الأعمش عن إبراهيم أن أصحاب عبد اللَّه كانوا يكبرون في (العيدين) (١) تسع تكبيرات.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے شاگرد عیدین کی نمازوں میں نو تکبیرات کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5836
٥٨٣٦ - [حدثنا الثقفي عن خالد عن (أبي) (١) قلابة قال: التكبير في العيدين تسع تسع] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ عیدین کی تکبیرات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ نو نو ہیں۔
حدیث نمبر: 5837
٥٨٣٧ - حدثنا شريك عن جابر عن (أبي) (١) جعفر أنه كان (يفتي) (٢) (بقول) (٣) عبد اللَّه في التكبير في العيدين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر عیدین کی تکبیرات کے بارے میں حضرت عبداللہ کے قول پر فتوٰی دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 5838
٥٨٣٨ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول أنه قال: التكبير في الأضحى والفطر سبع وخمس في العيدين كلاهما قبل القراءة، لا (توال) (١) بين القراءتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول عید الاضحی اور عید الفطر کی تکبیرات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سات اور پانچ تکبیرات ہیں اور سب قرائت سے پہلے ہیں، قرائتوں کے درمیان تکبیر نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 5839
٥٨٣٩ - حدثنا إسحاق الأزرق عن هشام عن الحسن ومحمد أنهما كانا يكبران تسع تكبيرات.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد عید میں نو تکبیرات کے قائل تھے۔
حدیث نمبر: 5840
٥٨٤٠ - حدثنا معتمر بن سليمان عن إسحاق بن سويد عن يحيى بن يعمر: (في العيدين) (١): في إحداهما تسع تكبيرات وفي الآخرة إحدى عشرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن یعمر ایک عید میں نو تکبیرات اور دوسری میں گیارہ تکبیرات کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5841
٥٨٤١ - حدثنا جعفر بن عون عن الإفريقي عن عبد الرحمن بن رافع أن عمر ابن الخطاب كان يكبر في العيدين (ثنتي) (١) عشرة: سبعا في الأولى وخمسا في الآخرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن رافع کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب عیدین کی نمازوں میں بارہ تکبیرات کہا کرتے تھے، سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔
حدیث نمبر: 5842
٥٨٤٢ - حدثنا عمر بن هارون عن عبد العزيز بن عمر عن أبيه أنه كان يكبر في العيد (سبعًا وخمسًا) (١) سبعًا في الأولى وخمسا في الآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز بن عمر اپنے والد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ عید کی نماز میں سات اور پانچ تکبیرات کہا کرتے تھے، سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔
حدیث نمبر: 5843
٥٨٤٣ - حدثنا خالد بن (مخلد) (١) قال: أنا (٢) إبراهيم بن إسماعيل بن أبي (حبيبة) (٣) ((نا) (٤) داود) (٥) بن الحصين عن أبي سفيان عن أبي سعيد الخدري قال: ⦗٢٣١⦘ التكبير في العيدين سبع وخمس، سبع في الأولى قبل القراءة وخمس في الآخرة قبل القراءة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ عیدین میں پانچ اور سات تکبیرات ہیں، سات پہلی رکعت میں قرائت سے پہلے اور پانچ دوسری رکعت میں قرائت سے پہلے۔
حدیث نمبر: 5844
٥٨٤٤ - حدثنا خالد بن (مخلد) (١) قال نا نافع بن أبي نعيم قال: سمعت نافعا قال: قال عبد اللَّه بن عمر: (التكبير في العيدين) (٢) سبع وخمس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عیدین میں سات اور پانچ تکبیرات ہیں۔
حدیث نمبر: 5845
٥٨٤٥ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال (نا) (٢) خالد بن (مخلد) (٣) قال: (نا) (٤) محمد ابن هلال قال: سمعت سالم بن عبد اللَّه وعبيد اللَّه بن عبد اللَّه يأمران عبد الرحمن بن الضحاك يوم الفطر وكان على المدينة أن يكبّر في أول ركعة سبعا ثم يقرأ (بـ) (٥) ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ وفي الآخرة خمسا ثم يقرأ: ﴿(اقْرَأْ) (٦) بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ہلال فرماتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبد اللہ اور عبید اللہ بن عبداللہ کو مدینہ کے گورنر عبد الرحمن بن ضحاک کو عید الفطر کے دن حکم دیتے ہوئے سنا کہ پہلی رکعت میں سات تکبیرات کہیں اور پھر سورة الاعلیٰ پڑھیں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات کہیں اور سورة العلق پڑھیں۔
حدیث نمبر: 5846
٥٨٤٦ - حدثنا خالد بن (مخلد) (١) قال: نا ثابت بن قيس (قال) (٢): صليت ⦗٢٣٢⦘ خلف عمر بن عبد العريز الفطر فكبر في الأولى سبعا قبل القراءة وفي الثانية خمسا قبل القراءة.
مولانا محمد اویس سرور
ثابت بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے پیچھے عید الفطر کی نماز پڑھی پہلی رکعت میں قرائت سے پہلے سات تکبیرات اور دوسری رکعت میں قرائت سے پہلے پانچ تکبیرات کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 5847
٥٨٤٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال أنا حميد عن عمار بن أبي عمار أن ابن عباس (١) كبر في عيد ثنتى عشرة تكبيرة سبعا في الأولى وخمسا في الآخرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار بن ابی عمار فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عید کی نماز میں بارہ تکبیرات کہیں، سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔
حدیث نمبر: 5848
٥٨٤٨ - حدثنا إسحاق بن منصور قال نا أبو (كدينة) (١) عن الشيباني عن الشعبي والمسيب قالا: الصلاة يوم العيدين تسع تكبيرات خمس في الأولى وأربع في الآخرة ليس بين القراءتين تكبيرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور حضرت مسیب فرماتے ہیں کہ عیدین کی نمازوں میں نو تکبیرات کہا کرتے تھے۔ پانچ پہلی رکعت میں اور چار دوسری رکعت میں۔ دونوں قرائتوں کے درمیان تکبیر نہیں ہے۔