حدیث نمبر: 5806
٥٨٠٦ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن يوسف بن عبد اللَّه بن سلام قال: كان الناس يبدؤون بالصلاة ثم يثنون بالخطبة حتى إذا كان عمر وكثر الناس في زمانه فكان إذا ذهب (ليخطب) (١) ذهب (جفاة) (٢) الناس فلما رأى ذلك عمر بدأ بالخطبة حتى ختم بالصلاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یوسف بن عبد اللہ بن سلام کہتے ہیں کہ لوگ پہلے عید کی نماز پڑھتے پھر خطبہ دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب حضرت عمر کا زمانہ آیا اور لوگ زیادہ ہوگئے۔ جب وہ خطبہ دینے لگتے تو ادھر ادھر کے لوگ کھسک جاتے۔ جب حضرت عمر نے یہ صورتحال دیکھی تو پہلے خطبہ دیتے پھر نماز پڑھاتے۔
حدیث نمبر: 5807
٥٨٠٧ - حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن إسماعيل بن رجاء عن أبيه قال: أخرج مروان المنبر (وبدأ) (١) بالخطبة قبل الصلاة فقام إليه رجل فقال: يا مروان خالفت السنة أخرجت المنبر ولم يكن يخرج وبدأت بالخطبة قبل الصلاة فقال أبو سعيد: من هذا؟ قالوا: فلان (فقال) (٢): أما هذا فقد قضى ما عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رجاء فرماتے ہیں کہ مروان نے منبر نکلوایا اور اس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا۔ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا اے مروان ! تو نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے، تو نے منبر کو نکلوایا حالانکہ منبر کو کبھی نکلوایا نہیں گیا اور تو نے نماز سے پہلے خطبہ دیا۔ اس موقع پر ابو سعید نے کہا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں ہے۔ فرمایا کہ اس نے اپنی ذمہ داری پوری کردی۔
حدیث نمبر: 5808
٥٨٠٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: أول من بدأ بالخطبة يوم العيد قبل الصلاة مروان فقام إليه رجل فقال: الصلاة قبل الخطبة فقال: ترك ما هنالك فقال أبو سعيد: أما هذا فقد قضى ما عليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ عید کے نماز سے پہلے خطبہ سب سے پہلے مروان نے دیا، اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ نماز خطبے سے پہلے ہے۔ مروان نے کہا کہ اسے یہاں چھوڑا گیا ۔ اس پر حضرت ابو سعید نے فرمایا کہ اس آدمی نے اپنی ذمہ داری پوری کردی۔