کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ عیدین کی نمازوں میں اذان اور اقامت نہیں ہیں
٥٧٧٤ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن جابر بن سمرة قال: صليت مع النبي ﷺ العيدين غير مرة ولا مرتين بغير أذان ولا إقامة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کئی مرتبہ عیدین کی نمازیں بغیر اذان اور بغیر اقامت کے پڑھی ہیں۔
٥٧٧٥ - حدثنا (عبدة) (١) (عن) (٢) عبد الملك عن عطاء عن جابر قال: شهدت النبي ﷺ صلى العيدين بغير أذان ولا إقامة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بغیر اذان اور بغیر اقامت کے عیدین کی نمازوں میں شریک ہوا ہوں۔
٥٧٧٦ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن جابر أن رسول اللَّه ﷺ صلى يوم العيد بغير أذان ولا إقامة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی نماز بغیر اذان اور بغیر اقامت کے پڑھائی۔
٥٧٧٧ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن عبد الرحمن بن عابس عن ابن عباس أن النبي ﷺ صلّى بهم يوم العيد عند دار كثير بن الصلت فصلّى قبل الخطبة ولم يذكر (أذانًا) (٢) ولا إقامة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو کثیر بن الصلت کے گھر کے پاس عید کی نماز پڑھائی جس میں خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اذان اور اقامت کا ذکر نہ کیا۔
٥٧٧٨ - حدثنا ابن مهدي عن زائدة عن سماك قال: رأيت المغيرة بن شعبة والضحاك وزيادا يصلون يوم الفطر والأضحى بلا أذان ولا إقامة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک کہتے ہیں کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ، ضحاک اور زیاد کو دیکھا کہ وہ عید الفطر اور عید الاضحی کی نمازیں بغیر اذان اور بغیر اقامت کے پڑھاتے تھے۔
٥٧٧٩ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن سماك عن المغيرة بن شعبة (١) أنه صلى يوم عيد بغير أذان ولا إقامة (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ نے عید کی نماز بغیر اذان اور بغیر اقامت کے پڑھائی۔
٥٧٨٠ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول أنه كان يقول: ليس في العيدين أذان ولا إقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ عیدین میں اذان اور اقامت نہیں ہیں۔
٥٧٨١ - [حدثنا خالد بن (حيان) (١) عن جعفر بن برقان عن عكرمة قال: ليس فيه أذان ولا إقامة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ عیدین میں اذان اور اقامت نہیں ہیں۔
٥٧٨٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء أن ابن (١) الزبير سأل ابن عباس قال: وكان الذي بينهما حسن فقال: لا تؤذن ولا تقم فلما ساء الذي بينهما أذن وأقام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن الزبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عیدین کی نماز میں اذان و اقامت کے بارے میں پوچھا (اس وقت دونوں حضرات کے تعلقات ٹھیک تھے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ عیدین میں نہ اذان دو نہ اقامت کہو۔ جب دونوں حضرات کا باہمی تعلق خراب ہوگیا تو حضرت ابن الزبیر عیدین میں اذان اور اقامت کہا کرتے تھے۔
٥٧٨٣ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن محمد قال: الأذان في العيد محدث.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ عید کی نماز میں اذان کہنا بدعت ہے۔
٥٧٨٤ - حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن ابن المسيب قال: أول من أحدث الأذان في (العيد) (١) معاوية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عید کی نماز میں اذان سب سے پہلے حضرت معاویہ نے شروع کی۔
٥٧٨٥ - حدثنا سلام (أبو) (١) الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا أذان ولا إقامة في العيدين ولا قراءة خلف الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ عیدین کی نمازوں میں نہ تو اذان و اقامت ہیں اور نہ ہی امام کے پیچھے قرائت۔
٥٧٨٦ - حدثنا مروان بن معاوية عن عيسى بن المغيرة قال: قلت لأبي وائل كانوا يؤذنون (١) في الأضحى والفطر قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو وائل سے سوال کیا کہ کیا اسلاف عید الاضحی اور عید الفطر میں اذان دیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔
٥٧٨٧ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر والحكم قالا: الأذان يوم الأضحى والفطر بدعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اور حضرت حکم فرماتے ہیں کہ عید الاضحی اور عید الفطر میں اذان دینا بدعت ہے۔
٥٧٨٨ - حدثنا ابن إدريس عن حصين قال: أول من أذن في العيد زياد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ عید کی نماز میں سب سے پہلے زیاد نے اذان دی۔
٥٧٨٩ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) زكريا عن رجل عن ⦗٢١٧⦘ الشعبي عن البراء (بن عازب) (٢) أن النبي ﷺ صلى يوم العيد بغير أذان ولا إقامة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغیر اذان اور بغیر اقامت کے عید کی نماز پڑھائی۔
٥٧٩٠ - [حدثنا معتمر عن يزيد (بن) (١) أبي زياد عمن حدثه عن علي أنه صلى يوم عيد بغير آذان ولا إقامة] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بغیر اذان اور بغیر اقامت کے عید کی نماز پڑھائی۔