حدیث نمبر: 5736
٥٧٣٦ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن عجلان عن نافع عن ابن عمر أنه كان يغدو يوم العيد ويكبر ويرفع صوته حتى يبلغ الإمام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صبح سویرے عید گاہ کی طرف روانہ ہوتے، بلند آواز سے تکبیر کہتے ہوئے امام کے پاس پہنچ جاتے۔
حدیث نمبر: 5737
٥٧٣٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن يحيى بن عبد اللَّه بن (أبي) (١) قتادة قال: أراه عن محمد بن إبراهيم أن أبا قتادة كان يكبر يوم العيد ويذكر اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قتادہ عید کے دن تکبیر کہا کرتے تھے اور اللہ کا ذکر کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5738
٥٧٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن أبي ذئب عن الزهري أن رسول اللَّه ﷺ كان يخرج يوم الفطر فيكبر حتى يأتي المصلى وحتى يقضي الصلاة فإذا قضى الصلاة قطع التكبير (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر کے دن جب عید کے لئے نکلتے تو تکبیر کہتے تھے یہاں تک کہ عید گاہ میں پہنچ جائیں اور نماز مکمل کرلیں، نماز پڑھنے کے بعد تکبیر نہ کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 5739
٥٧٣٩ - حدثنا أبو الأحوص عن عطاء بن السائب قال: خرجت مع أبي ⦗٢٠٧⦘ عبد الرحمن و (ابن معقل) (١) (فكان) (٢) أبو عبد الرحمن يكبر يرفع صوته بالتكبير وكان (ابن معقل) (٣) يقول: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ میں ابو عبد الرحمن اور ابن معقل کے ساتھ عید کے لئے گیا۔ ابو عبد الرحمن بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے اور ابن معقل یہ کلمات کہتے تھے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اور تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
حدیث نمبر: 5740
٥٧٤٠ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن يزيد بن أبي زياد قال: خرجت مع سعيد ابن جبير وعبد الرحمن بن أبي ليلى فلم يزالا يكبران ويأمران من (مرا به) (١) بالتكبير
مولانا محمد اویس سرور
یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے ساتھ گیا، وہ دونوں حضرات مسلسل تکبیر کہا کرتے تھے اور اپنے پاس سے گذرنے والوں کو بھی تکبیر کا حکم دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 5741
٥٧٤١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش قال: كنت أخرج مع أصحابنا إبراهيم وخيثمة وأبي صالح يوم العيد فلا يكبّرون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش کہتے ہیں کہ میں اپنے اساتذہ ابراہیم، خیثمہ اور ابو صالح کے ساتھ عید کی نماز کے لئے جاتا تھا، وہ تکبیر نہیں کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 5742
٥٧٤٢ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن حجاج قال: حدثني رجل من المسلمين عن (حنش) (١) (بن) (٢) المعتمر أن عليا يوم أضحى كبّر حتى انتهى إلى العيد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حنش ابو معتمر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یوم الاضحی کو عید گاہ تک پہنچنے تک تکبیرات کہی ہیں۔
حدیث نمبر: 5743
٥٧٤٣ - حدثنا المحاربي عن حجاج عن عطاء قال: (إن) (١) من السنّة أن يكبر (في) (٢) العيد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ یہ سنت ہے کہ آدمی عید کے دن تکبیرات کہے۔
حدیث نمبر: 5744
٥٧٤٤ - حدثنا ابن علية عن شعبة قال: قلت للحكم وحماد: أكبر إذا خرجت إلى العيد؟ قالا: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد اور حضرت حکم سے سوال کیا کہ کیا میں عید کے لئے نکلتے ہوئے تکبیر کہوں ؟ دونوں نے فرمایا ہاں۔
حدیث نمبر: 5745
٥٧٤٥ - حدثنا حفص بن غياث وأبو معاوية عن هشام بن عروة أن أباه كان يكبر يوم العيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ عید کے دن تکبیرات کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5746
٥٧٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: كان الناس يكبّرون في العيد (حين) (١) يخرجون من منازلهم حتى يأتوا المصلى وحتى يخرج الإمام فإذا خرج الإمام سكتوا فإذا كبّر كبّروا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ لوگ عید کے دن اپنے گھروں سے نکل کر عید گاہ تک پہنچنے اور امام کے نکلنے تک تکبیر کہا کرتے تھے۔ جب امام آجاتا تو وہ خاموش ہوجاتے۔ جب امام تکبیر کہتا تو وہ بھی تکبیر کہتے۔
حدیث نمبر: 5747
٥٧٤٧ - حدثنا يزيد عن ابن أبي ذئب عن شعبة قال: كنت أقود ابن عباس يوم العيد (فسمع) (١) الناس يكبّرون فقال: ما شأن الناس؟ قلت: يكبّرون قال: يكبّرون، قال يكبّر الإمام؟ قلت: لا، قال: أمجانين الناس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو عید کے دن لے کر جا رہا تھا انہوں نے لوگوں کو تکبیر کہتے ہوئے سنا تو فرمایا لوگوں کو کیا ہوا ؟ میں نے کہا تکبیر کہہ رہے ہیں۔ فرمانے لگے کیوں تکبیر کہہ رہے ہیں ؟ کیا امام نے تکبیر کہہ لی ؟ میں نے کہا نہیں فرمایا یہ پاگل لوگ ہیں کیا ؟